دورۂ قادیان 1991ء — Page 93
93 اس نظم کے دوران مضامین کے لحاظ سے نعروں کا گویا تسلسل بندھ گیا تھا۔خود حضور انور نے بھی اس دوران بعض نعرے معین فرمائے اور خود اپنے جذبات کو احباب جماعت کے جذبات کے ساتھ شامل فرما کر ایک روح پرور تلاطم برپا کر دیا تھا۔سارے اجتماع میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہ آتا تھا کہ جو اس نظم کی گہرائی میں نہ اتر گیا ہو۔حتی کہ غیر مسلم حاضرین بھی اس ماحول میں پوری طرح جذب ہو کر اس کی اکائی بن چکے تھے۔سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع صد سالہ جلسہ سالانہ قادیان میں افتتاحی خطاب فرمانے کیلئے منبر پر تشریف لائے تو ایک دفعہ نعروں نے پھر شش جہات میں ارتعاش پیدا کر دیا۔آپ نے انہیں نعروں میں تشہد شروع فرمایا تو حاضرین فوراً جذبات کے تلاطم سے نکل کر اپنے آقا کی آواز کے لئے ہمہ تن گوش ہو گئے۔حضور انور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد افتتاحی خطاب شروع فرمایا۔جس میں آپ نے سب حاضرین جلسہ کو اور ان سب کو جو جلسہ میں شامل ہونے سے کسی وجہ سے محروم رہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کی زبان میں ”مبارک سومبارک، پیش کی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے اس معرکۃ الآراء تاریخی خطاب میں نظام جلسہ سالانہ کے پس منظر اور پھر حضرت مسیح موعود کے دور میں جو ابتدائی مشکلات تھیں انکا تذکرہ فرمایا اور اب تک اللہ تعالیٰ کے افضال کی جو بارش ہو چکی ہے اس کا روح پرور ذکر بھی فرمایا کہ آج دنیا بھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر جاری ہو چکے ہیں اور کروڑوں روپے ان پر خرچ ہوتے ہیں۔حضور نے حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں جلسہ سالانہ کی غرض وغایت اور مقاصد بیان فرمائے۔حضور نے مخالفین احمدیت کا ذکر بھی فرمایا جنہوں نے جلسہ سالانہ کو نا کام بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی لوگوں کو قادیان آنے سے روکا کرتا تھا۔لیکن آج قادیان میں دنیا بھر سے احمدی آرہے ہیں لیکن محمد حسین بٹالوی کا بٹالہ سے نام و نشان مٹ چکا ہے۔جس قبرستان میں وہ دفن کیا گیا وہ قبرستان آج صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔خدا کی تقدیر کہ محمد حسین بٹالوی کے نواسے شیخ محمد سعید صاحب احمدی ہو کر حضور کی بیعت میں داخل ہو چکے ہیں۔احمدیوں کے جلسوں کو اللہ تعالیٰ غیر معمولی برکات سے نوازا ہے اور اس سے پیغام احمدیت دوسروں تک پہنچ رہا ہے اور جماعت دنیا بھر میں