دورۂ قادیان 1991ء — Page 92
92 ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں مدعائے حق تعالی مدعائے قادیاں وہ ہے خوش اموال پر، یہ طالب دیدار ہے بادشاہوں سے بھی افضل ہے گدائے قادیان گرنہیں عرشِ معلی سے یہ ٹکراتی تو پھر سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدائے قادیاں میرے پیارے دوستو تم دم نہ لینا جب تلک ساری دنیا میں نہ لہرائے لوائے قادیاں یا تو ہم پھرتے تھے اُن میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں خیال رہتا ہے ہمیشہ اُس مقام پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بانیل مرام باندھیں گے رختِ سفر کو ہم برائے قادیاں صبر کراے ناقہ راہ ھدی ہمت نہ ہار دور کر دے گی اندھیروں کو ضیائے قادیاں ایشیا و یورپ و امریکہ وافریقہ سب دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں گلشن احمد کے پھولوں کی اڑالا ئی جو بُو زخم تازہ کرگئی بادِ صبائے قادیاں جب کبھی تم کو ملے موقع دعائے خاص کا یا د کر لینا ہمیں اہلِ وفائے قادیاں