دورۂ قادیان 1991ء — Page 94
94 خدمت خلق کے کاموں میں بھی مصروف عمل ہے۔حضور نے اہل ہندوستان کو تبلیغ کے میدان میں مساعی تیز کرنے کی طرف توجہ دلائی اور جماعتی ذیلی تنظیموں کومل جل کر کام کرنے کی ہدایت فرمائی۔آپ نے تقریر کے آخر پر قادیان کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود کے متعد الہامات بیان فرمائے اور اس یقین کا اظہار فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ خلافت احمد یہ اپنے دائگی مرکز میں لوٹ آئے گی۔انشاء اللہ۔حضور انور کا یہ روح پرور تاریخی خطاب پونے دو گھنٹے جاری رہا۔آپ کے خطاب کے بعد برطانوی ممبر پارلیمنٹ مسٹر نام کا کس اور گھانا کے منسٹر جناب جسٹس ایکن نے مختصر سا خطاب کیا جس میں انہوں نے اس جلسہ میں شمولیت کو اپنی خوش بختی قرار دیتے ہوئے جذبات تشکر کا اظہار کیا۔حضور اقدس نے ان دونوں معززین سے معانقہ بھی فرمایا۔دعا کے بعد افتتاحی اجلاس کی کارروائی ختم ہوئی اور آپ پیدل گھر تشریف لے گئے۔دو پہر دو بجے دوبارہ تشریف لا کر جلسہ گاہ میں ظہر وعصر کی نمازیں ادا کیں۔افتتاحی اجلاس میں حاضرین کی تعداد سترہ ہزار (۱۷۰۰۰) افراد سے زائد تھی اور جلسہ گاہ کا احاطہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔جالندھر اور دہلی ٹی وی کی خبروں میں جلسہ کے متعلق خبر تین منٹ تک دکھائی گئی جس میں حضور انور اور حاضرین جلسہ کے علاوہ برطانوی ممبر پارلیمنٹ مسٹر ٹام کا کس صاحب اور گھانا کے جسٹس مسٹر ا لیکن صاحب کو دکھایا گیا۔اسی روز شام ساڑھے آٹھ بجے سے سوانو بجے تک حضرت خلیفہ اصبح الرابع نے سکم، نیپال بھوٹان، بنگلہ دیش، آسام، بنگال لکش دیپ کے علاقوں سے آئے ہوئے مہمانوں سے ملاقات فرمائی۔نیز ہندوستان بھر کے علاقوں سے تشریف لانے والے ایسے مہمانوں سے بھی ملاقات فرمائی جو قبل از میں اجتماعی ملاقات میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ء بروز جمعۃ المبارک۔قادیان آج جلسہ سالانہ کا دوسرا روز ہے حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے نماز فجر چھ بج کر میں منٹ پر مسجد اقصی میں پڑھائی۔ساری نماز ہی انتہائی سوز میں ڈوبی ہوئی تھی۔نماز فجر کی ادائیگی کے بعد