دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 76 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 76

76 حضور کے دوروں اور ذاتی توجہ کے نتیجہ میں یورپ امریکہ، افریقہ ، مشرق وسطی اور خود ہندوستان میں جماعت کی تبلیغ واشاعت، تربیت اور مالی قربانیوں کا رجحان اس قدر بڑھ گیا کہ بعض ممالک میں ترقی کا گراف ہجرت سے قبل کے سالوں کی نسبت سو گنا سے بھی اوپر نکل چکا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔چوتھی خصوصیت حضور انور کے مبارک دورِ خلافت کو یہ عطا ہوئی کہ نائیجیریا کے تین بادشاہوں کو قبول احمدیت کی توفیق ملی اور متعدد ممالک کے وزراء ممبران پارلیمنٹ اور سر کردہ اہم شخصیتیں جماعت کے جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے لگیں اور جماعت کو خراج تحسین پیش کیا۔پانچویں خصوصیت حضور کے دور درخشندہ کو یہ عطا ہوئی کہ دیوار برلن کے گرنے اور روسی کمیونزم کے زوال کے بارے میں آسمانی پیشگوئیاں ہماری آنکھوں کے سامنے پوری ہوئیں۔یہ عجیب نصرت الہی ہے کہ اب نئے میدانوں میں داخل ہونے بلکہ ان راستوں کے کھلنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے برحق خلیفہ کی راہنمائی فرمائی۔جس کے نتیجہ میں روسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ اور دیگر اسلامی لٹریچر کے ترجمہ کی اشاعت کی توفیق ملی اور خلیفہ رابع کی اس خدمت کی قبولیت کا اللہ تعالیٰ نے یہ نشان دکھایا کہ جماعت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس سال جلسه سالانه لندن پر ۱۲۰افراد پر مشتمل روسی وفد نے شرکت کی اور ۲ معز زممبران نے حضور کی خدمت میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے روسی لباس کوٹ اور ٹوپی پہنائی اور اپنے ممالک میں آنے کی دعوت دی۔پس اے ہمارے دل و جان سے پیارے آقا! حضور کی بابرکت موجودگی میں ہم اللہ تعالیٰ کے ان افضال کی یادداشت تازہ کرتے ہیں اور اسکے نتیجہ میں جو شکر کا حق ہے اسکے ادا کرنے کی توفیق پانے اور جذ بہ اطاعت، قوت عمل اور وفا کے ساتھ تادمِ واپسیس خلافت کے دامن سے وابستہ و پیوستہ رہنے کے لئے حضور اقدس کی خدمت میں عاجزانہ دعا کی درخواست کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے امام ہمام کو صحت و سلامتی والی لمبی عمر سے نوازے، ہمیشہ روح القدس کی تائید حضور کے شامل حال رہے اور ہماری طرف سے ہمیشہ حضور کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے اور حضور کے اس نزول در قادیان کو فتح مبین کا پیش خیمہ بنادے اور جماعت ہائے احمد یہ ہندوستان کو اپنے فضل سے اس قابل بنا دے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے دائمی مرکز قادیان میں خلافت کی دائمی واپسی کے جلد سامان فرما دے