دورۂ قادیان 1991ء — Page 77
آمین ثم آمین۔77 آخر میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامی الفاظ میں یہی عرض کرتے ہیں کہ خوش آمدی۔نیک آمدی ( تم خوش آئے ہو اور ا چھے آئے ہو ) ( تذکرہ صفحہ: ۵۹۱) والسلام ہم ہیں حضور کے ادنی غلام اس کے بعد حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔” جب میں نے آغاز سال ہی میں یہ نیت باندھی کہ اگر خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو اس سال جلسہ میں ضرور شرکت کرونگا۔قادیان کی طرف سے بار بار درخواستیں آجاتی تھیں کہ اُن کی طرف سے دیئے جانے والے ایک سپاسنامہ کے پڑھنے کی اجازت دی جائے لیکن میں ہمیشہ گہری معذرت کے ساتھ رد کر تا رہا۔لیکن اب اس خیال سے کہ دل شکنی نہ ہو تو یہ اجازت دی کہ اگر سپاسنامہ پیش کرنا ہی ہو تو سارے ہندوستان کی جماعتوں کی طرف سے ہوتا کہ میں عمومی رنگ میں مخاطب کر سکوں تردد در اصل اپنی طبیعت کی گھبراہٹ کی وجہ سے کرتا رہا تھا۔یہاں جتنا وقت سپاسنامہ پیش ہوتار ہا میں بہت گھٹن اور تنگی محسوس کرتا رہا ہوں۔اگر چہ جماعت احمدیہ میں سچائی بڑے گہرے طور پر پائی جاتی ہے لیکن سپاسناموں کا رواج ایسا ہے کہ کسی نہ کسی رنگ میں تکلف بڑھتا جاتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ مجھے تردد رہا۔سورۃ فاتحہ کی الحمد کے مضمون پر آپ جتنا غور کریں گے آپ کی ذات مٹتی چلی جائے گی۔اس میں اتنی وسعت ہے کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ سمند ر ختم ہو سکتے ہیں، انمول موتی اور دیگر خزینے ختم ہو سکتے ہیں ، لیکن کلام الہی کی وسعت کبھی ختم نہیں ہوتی۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس نفس میں بہت سارے بت چھپے ہوئے ہیں۔ان تمام بتوں کے مٹنے کے ساتھ اللہ کی حمد کے نئے مضامین اور نئے جلوے نظر آتے ہیں۔جب حمد وثنا بندے کے لئے کی جائے تو اس سفر میں روڑے اٹکے ہوئے نظر آتے ہیں۔آج یہاں جو سپاسنامہ پڑھ کر سنایا گیا تھا اُس کا جواب دینے سے بھی میں نے معذرت کی