دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 75 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 75

75 موعود علیہ السلام کے الہام إِنِّي مُهِيْنٌ مَّنْ اَرَادَ اهَا نَتَک کو کمال شان سے پورا ہوتے دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے سرکش دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا اور ہمارے پیارے امام ہمام کے اس قول کو بپائیہ قبولیت جگہ دی کہ کل چلی تھی جو لیکھو پہ تیغ دعا آج بھی اذن ہو گا تو چل جائے گی اسکے ساتھ جماعت احمدیہ کو ایسی نفرتوں سے نوازا جسکے شیر میں ثمرات سے انشاء اللہ پوری صدی کے احمدی فیضیاب ہوتے رہیں گے۔حضور کے دور خلافت کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ جب دشمن نے یہ یقین کر لیا کہ وہ منہ کی پھونکوں سے چراغ احمدیت کو بجھانے میں مسلسل ناکامیوں اور حسرتوں سے دو چار چلے آئے ہیں تو انتہائی سفلہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۲۶ را پریل ۱۹۸۴ء کا آرڈی نینس جاری کر دیا۔ہاں اسی ظالمانہ کاروائی کا نتیجہ اس رنگ میں ظاہر ہوا کہ حضور کو ملک سے ہجرت کرنی پڑی۔لیکن یہ ہجرت مشیت ایزدی سے کئی شیر میں ثمرات پر منتج ہوئی۔اندرون ملک اگر چه احمدیوں پر شدید ظلم وستم روا رکھے گئے۔شمع احمدیت کے پروانوں نے ان مصائب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دو درجن سے زائد فدایوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا سینکڑوں فرزندان احمدیت جیلوں میں کوہ عزیمت بنے رہے، سینکڑوں احمدی مقدمات کی سختیاں خوشی خوشی جھیلتے آرہے ہیں اور بیرونی دنیا میں تبلیغ واشاعت اور جماعتوں کی تربیت کی سمت حیرت انگیز کارنامے ظہور پذیر ہوئے۔خاص طور پر خدمت قرآن کی توفیق عطا ہوئی۔چنانچہ اب تک چھیالیس زبانوں میں مکمل قرآن کریم کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔منتخب آیات منتخب احادیث اور منتخب ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اشاعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ کتب ، ملفوظات، مکتوبات اور تفسیر کی جلدوں پر مشتمل روحانی خزائن کی اشاعت وغیرہ اسکے علاوہ ہے۔لندن ، جرمنی اور کینیڈا میں جماعت کے بڑے بڑے کمپلکس قائم ہو چکے ہیں اور ہور ہے ہیں۔آسٹریلیا کے پانچویں بر اعظم میں جدید پریس کا قیام، وقف نو کی آسمانی تحریک، حضور کے خطبات کو سٹیلائٹ کے انتظام کے ذریعہ براہِ راست ہزاروں میل دور دیگر ممالک میں سنائے جانے کا پروگرام یہ سب ہجرت کی برکتوں کے طور پر ظاہر ہوئے۔پھر اسی ہجرت کے بعد