دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 23 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 23

23 تاجروں نے بھی حضور کے استقبال کے لئے سٹرکوں پر گیٹ بنائے اور بینر ز سجائے۔حضرت مسیح موعود اللہ کے مہمانوں کے لئے ہندوؤں نے بھی اپنے گھروں کو پیش کیا، سکھوں نے بھی اور عیسائیوں نے بھی۔مکرم حکیم سورن سنگھ صاحب سابق ممبر میونسپل کمیٹی قادیان یوں تو ہمیشہ ہی جماعت کے ساتھ محبت اور تعاون کا تعلق رکھتے ہیں مگر اس موقع پر خاص طور پر وہ دفتر جلسہ سالانہ میں تشریف لائے اور درخواست کر کے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کیلئے اپنے اور اپنے رشتہ داروں اور تعلقدار گھرانوں میں نہ صرف رہائش مہیا کی بلکہ بستر و ناشتے وغیرہ تک کی سہولت دینے میں پہل کی۔والے گرو اُن پر کر پا کرے اور اُن کے سب گھروں میں برکتیں بھر دے۔الغرض سب لوگوں نے ہی مہمانوں کی خدمت کی اور اس سیوا کو اپنے لئے راحت اور سکون کا موجب یقین کیا۔ان کے ایسے جذبات کو ہر احمدی محسوس کرتا تھا اور ان کے لئے دل میں تشکر کے جذبات بھر کر خدا تعالیٰ کی حمد وشکر کے ترانے گاتا تھا۔جیسا کہ گزشتہ صفحات میں یہ ذکر آچکا ہے کہ قادیان دارالامان میں ، جلسہ کے ہر انتظام اور ہر پروگرام میں ہر جہت سے خدا تعالیٰ نے برکت کا نزول فرمایا تھا۔مگر اس برکت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ قادیان کی بستی کا ہر تا جر خواہ وہ ہندو تھا ،سکھ تھا یا مسلمان و عیسائی ، اُس کی تجارت میں اس قدر برکت پڑی اور چند دنوں میں اس کو اس قدر منافع نصیب ہوا کہ شاید اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہوگا۔چنانچہ اس دنیوی برکت کی لذت سے مسرور ہو کر یہ تاجر احمدی احباب سے پوچھتے کہ اگلے سال مرزا صاحب پھر آئیں گے نا؟“ اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے حضرت خلیفتہ اسی سے مل کر یا آپ کو دیکھ کر روحانی طور پر برکت حاصل کی تھی ، وہ بھی یہی پوچھتے تھے کہ ”اگلے سال حضرت مرزا صاحب پھر آئیں گے نا؟ حضور جس گلی کوچے سے گزرتے ، احمدی مرد وزن اور بچے تو گھنٹوں انتظار میں کھڑے ہوتے تھے مگر غیر مسلم بھی اشتیاق دیدار میں طویل انتظار کرتے۔جب وہ آپ کو دیکھ کر آنکھوں کی تشنگی مٹا چکتے تو بر ملا اظہار کرتے کہ حضور کے چہرے پر الہی نور ہے۔قارئین کرام ! اب چند اور امور ملاحظہ فرمائیں ان سے آپ اندازہ کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود ال کے الہام راضی خوشی آئے ، خیر و عافیت سے آئے کس شان اور روشنی کے ساتھ پورے ہوئے۔چنانچہ مکرم عبد الحلیم سحر صاحب آف ربوہ تحریر کرتے ہیں :۔