دورۂ قادیان 1991ء — Page 22
22 الیس جلسے تے ھندوستان دی ساری جماعتاں دے اینیں لوک آئے ہیں کہ جیڑھے پہلاں ایتھے کریں کیسے جلسے تے نہیں آئے۔“ امن اور برکت کا ماحول ایک تو ہجرت کا وہ سماں تھا جس میں قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کے بازارگرم تھے اور انتہائی جگر پاش خوں آشام حالات میں ہجرت کرنے والوں نے ایک کس مپرسی اور بے بسی کی حالت میں مسیح پاک کی مقدس بستی قادیان دارالامان کو الوداع کہا۔وہ وہاں سے نکلے تو سینے پر جدائی کے پتھر اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ایسی جدائی ہمراز ہوئی کہ سوتے میں بھی روح ”ہائے قادیان پکارنے لگتی اور اب واپسی کا منظر ایسا تھا کہ جیسے ہر طرف امن وسلامتی کے پھولوں کی سیج پر خوشیوں اور راحتوں کی ٹھنڈک اتر رہی ہو۔خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس خلیفہ کے لئے اس بستی میں آمد کیلئے ہر قسم کے اسباب کے دروازے کھول دیئے۔راستے کشادہ اور پُر نور کر دیئے۔دلوں میں خوش آمدید کے باغ مہکا دیئے۔قومیں ”جی آیا نوں کے راگ الاپنے لگیں ، فضا راضی خوشی آئے ، خیر و عافیت سے آئے“ کی خوشبو سے لبریز ہوگئی۔قادیان کی احمدی آبادی تو اس آمد پر واری واری ہی تھی لیکن وہاں پر مقیم ہر مذہب کا پیرو اور ہر مکتبہ فکر کا آدمی بھی ”شاہ قادیان“ کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔احمد یہ محلے میں بڑے بڑے ۹ آرائشی گیٹ مختلف جگہوں پر لگائے گئے۔ان کو آراستہ کیا گیا اور پورے ماحول میں رنگ برنگی جھنڈیاں سجائی گئیں۔قادیان کی آرائش و زیبائش کا کام خدام و اطفال نے بڑی محبت کے ساتھ دن رات ایک کر کے کیا اور قادیان کو اس طور سے سجایا اور احباب نے اپنے گھروں کو اس قدر چراغاں کیا کہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔احمدی احباب نے اپنے گھروں میں سمٹ سمٹ کر مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش نکالی۔مکرم سردار ہر یندرسنگھ باجوہ صاحب نے ، جو ان دنوں میونسپل کمیٹی کے صدر تھے، باوجود فنڈز کی کمی کے مہمان خانہ سے احمد یہ چوک تک فرش لگوا دیا اور عارضی سٹریٹ لائٹس لگوا کر روشنی کا خاطر خواہ انتظام فراہم کیا۔اسی طرح ٹینکر کی باقاعدہ ڈیوٹی لگا کر روزانہ احمد یہ علاقے میں چھڑکاؤ کا انتظام بھی کیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔وہاں کی مختلف ہندو اور سکھ تنظیموں نے اور انفرادی طور پر