دورۂ قادیان 1991ء — Page 24
24 خاکسار نے قادیان میں عجیب وغریب نظارے دیکھے۔ڈیوٹی کے دوران جب حضور جلسہ گاہ تشریف لاتے تو خاکسار بھی ساتھ ہوتا۔حضور جب سٹیج پر چلے جاتے تو خاکسار جہاں سکھ اور ہندو بیٹھے ہوتے تھے وہاں چلا جاتا۔حضور جب تقریر فرما رہے ہوتے تو اُن کے تاثرات دیکھتا۔بڑا عجیب منظر ہوتا۔ان کے چہروں پر بڑی عقیدت ہوتی اور اکثر کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے اور وہ حضور کی ہر بات کے ساتھ دُہراتے ” حضور ٹھیک کیندے نے (کہ حضور ٹھیک کہہ رہے ہیں ) بوڑھے سکھوں کو معلوم بھی نہ ہوتا کہ روتے روتے ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے بھر گئی ہیں۔بازار سے جو تاثرات ملے وہ بھی عجیب تھے کہ دل بے اختیار " غلام احمد کی جے“ کے نعرے لگانے لگتا۔سکھوں اور ہندوؤں کے تاثرات کہتے تھے کہ ہم نے سُنا تھا کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ قادیان میں اتنے لوگ آئیں گے کہ گڑھے پڑ جائیں گے۔ہم نے سوچ رکھا تھا کہ اگر پانچ یا دس ہزار لوگ بھی آگئے تو ہم جان لیں گے کہ مرزا صاحب نے سچ کہا تھا۔لیکن اب کی دفعہ تو انتہا ہو گئی لوگوں کی تعداد دس اور میں ہزار سے بھی بڑھ گئی اور آج ہم گواہی دیتے ہیں کہ مرزا صاحب نے سچ کہا تھا۔یہ تھے بوڑھے سکھوں اور ہندوؤں کے تاثرات۔پھر ایک روز عجیب نظارہ دیکھا۔حضور سیر کے لئے تشریف لے گئے۔خاکسار دوسرے خادموں کے ساتھ آگے جا رہا تھا۔بعض سکھ سائیکلوں پر آرہے تھے کہ اچانک انہیں کسی نے بتایا کہ مرزا صاحب آرہے ہیں تو وہ پاگلوں کی طرح سائیکلوں سے چھلانگیں مارتے سٹرک سے اتر گئے اور بڑی عقیدت اور محبت سے ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ حضور آرہے ہیں ان کا دیدار کرنا ہے۔پھر ایک جگہ کچھ سکھوں کو کھڑے دیکھا جو اونچی آواز میں بول رہے