دورۂ قادیان 1991ء — Page 236
236 صرف جمعہ کی نماز ہوتی ہے اور دس بارہ آدمی اس میں حاضر ہوتے ہیں۔) مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جس قبرستان میں دفن ہوئے اس کی بابت جب با سرہ احمد خان صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ قبرستان جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں کہ وہاں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب دفن ہوئے تھے اُس کا وقف بورڈ کے کاغذات میں کوئی ریکارڈ نہیں۔“ اب اس جگہ پر مکان اور گندم کی فصل موجود ہے یعنی مولوی صاحب کی قبر پر ہل چلا کر اسے صفحہ ہستی سے نا پید کر دیا گیا ہے۔)۔کے۔ایم ٹامس صاحب Baring Union Christian Collage Batala) یہ کالج اس معدوم شدہ قبرستان کے قریب واقع ہے جہاں مولوی محمد حسین صاحب کی قبر تھی۔آپ اس کالج کے پرنسپل ہیں۔پی ایچ ڈی (فزکس ) ہیں۔۱۹۵۸ء میں یہاں آئے۔ان سے جب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے بارہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اب تک کبھی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا نام نہیں سنا نہ ہی کسی جگہ کسی مجلس یا کسی حلقہ میں ان کا کبھی ذکر سنا ہے۔“ ۹۔کلدیپ سنگھ بیدی صاحب حضرت گردو باوانانک جی سے براہ راست سولہویں پشت میں سے ہیں۔صاحب علم اور علم دوست شخصیت ہیں۔گھر کا ہر فرد صاحب علم ہے۔یہ پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں۔تقریب سے سال سے بٹالہ میں مقیم ہیں۔ان سے جب مولوی محمد حسین بٹالوی کے بارہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے بٹالہ کی مشہور شخصیتوں کے بارہ میں پڑھا ہے۔لٹریچر سے میرا گہرا تعلق ہے۔موجودہ زمانہ میں بٹالہ کی مشہور شخصیتوں کے متعلق مجھے ذاتی علم ہے اور ان میں سے بہت سے لوگوں سے میرا بہت گہرا تعلق ہے۔لیکن مجھے تعجب ہے کہ جن صاحب کا آپ نے پوچھا اور بتایا ہے کہ وہ بٹالہ کے رہنے والے تھے ان کے متعلق میں نے نہ کبھی کچھ سنا اور نہ پڑھا ہے۔“ (نوٹ: اس رپورٹ کا ذکر حضور انور کے افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء میں ملاحظہ فرمائیں۔)