دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 235 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 235

235 اگر آپ بٹالہ کی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی میں سے ہر شخص سے پوچھ کر بھی دیکھیں تو غالبا ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جو اس نام کے شخص کو جانتا ہو۔۳۰ سال سے میرے احمد یوں سے تعلقات ہیں جو بڑھتے ہی جارہے ہیں اور بہت اچھا بھائی چارہ ہے۔لیکن جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے۔میں اس کے متعلق بالکل نہیں جانتا کہ اس نام کا کوئی شخص یہاں کبھی گزرا ہو جبکہ مرزا غلام احمد صاحب کے متعلق کئی مرتبہ نیک اور تکریم والے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔حتی کہ قادیان کے ایک سخت مخالف اور کٹر ہندو کنج بہاری لعل جن سے میرے بہت گہرے مراسم تھے ان کی گواہی بھی یہ تھی کہ گو میں نے احمدیوں سے ٹکر تولی ہے لیکن یہ لوگ برے نہیں بلکہ بہت اچھے لوگ ہیں۔“ ۷۔باسط احمد خان صاحب عمر چالیس سال۔پنجاب وقف بورڈ کے برانچ آفیسر ہیں اور ساڑھے چارسال سے بٹالہ میں وقف بورڈ میں کام کر رہے ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ”مولوی محمد حسین بٹالوی کا نام تک میں نے نہیں سنا جب ان سے ان کی مسجد کے بارہ میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اُن کے ریکارڈ میں مولوی صاحب کی مسجد کا بھی کوئی ذکر نہیں ملتا۔یہاں بٹالہ میں تقریباً اڑھائی سو کے قریب مساجد تھیں۔ان میں سے ایک مسجد بھی بطور مسجد استعمال نہیں ہو رہی۔چند ایک مساجدا اپنی اصل شکل میں تو موجود ہیں لیکن وہ مدرسوں گوردواروں اور دوسرے مصارف میں ہیں۔بٹالہ کے مسلمانوں کے لئے ایک مسجد کی جگہ جس پر سٹی کا نگرس کمیٹی کا قبضہ ہے۔وہاں اب ورکشاپ اور دفاتر نما کمرے بنادیئے گئے ہیں۔ان کمروں میں سے ایک کمرہ پنجاب وقف بورڈ کے انتظام کے تحت مسجد کیلئے استعمال ہو رہا ہے اور یہاں لوگ نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔“ (خاکسار ہادی علی نے وہاں جا کر یہ کمرہ دیکھا اور اس کی تصاویر لیں اس کمرے کو تالا لگا ہوا تھا۔باہر ایک مسلمان نوجوان کھڑا تھا اس سے نمازوں کے بارہ میں پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہاں