دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 16 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 16

16 تاریخ ہے اور میں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام قمری گیارہ تاریخ کے بعد ہوگا مگر انتظار کرتے کرتے عیسوی ماہ کی 28 تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہوسکا۔28 تاریخ کو اعلان ہوگیا کہ 31 اگست کے بعد ہر ایک حکومت اپنے اپنے علاقہ کی حفاظت کی خود ذمہ دار ہوگی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈین یونین اب مکمل طور پر قادیان پر قابض ہوگئی ہے۔میں نے اس وقت خیال کیا کہ اگر مجھے جانا ہے تو اس کے لئے فوراً کوشش کرنی چاہئے ورنہ قادیان سے نکلنا محال ہو جائے گا اور اس کام میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔ان لوگوں کے مخالفا نہ ارادوں کا اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ انگریز کرنل جو بٹالہ لگا ہوا تھا میرے پاس آیا اور اس نے کہا مجھے ان لوگوں کے منصوبوں کا علم ہے جو کچھ یہ 31 / اگست کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کریں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ باتیں کرتے وقت اُس پر رقت طاری ہوگئی لیکن اُس نے جذبات کو دبا لیا اور منہ ایک طرف پھیر لیا۔جب میں نے دیکھا کہ گاڑی وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہوسکتا اور میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام ” بعد گیارہ سے کیا مراد ہے تو مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا پیغام ملا کہ میجر جنرل نذیر احمد صاحب کے بھائی میجر بشیر احمد صاحب ملنے کے لئے آئے ہیں۔دراصل یہ ان کی غلطی تھی وہ میجر بشیر احمد صاحب نہیں تھے بلکہ ان کے دوسرے بھائی کیپٹن عطاء اللہ صاحب تھے۔جب وہ ملاقات کے لئے آئے تو میں حیران تھا کہ یہ تو میجر بشیر احمد نہیں۔اُن کے چہرے پر تو چیچک کے داغ ہیں۔مگر چونکہ مجھے ان کا نام میجر بشیر احمد ہی بتایا گیا تھا اس لئے میں نے دوران گفتگو میں جب انہیں میجر کہا تو انہوں نے کہا میں میجر نہیں ہوں کیپٹن ہوں اور میرا نام بشیر احمد نہیں بلکہ عطاء اللہ ہے۔کیپٹن عطاء اللہ صاحب کے متعلق پہلے سے میرا یہ خیال تھا کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے زیادہ مخلص ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ اگر خدمت کا موقع مل سکتا ہے تو اپنے بھائیوں میں سے یہی اس