دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 17 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 17

17 کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔میں نے انہیں حالات بتائے اور کہا کہ کیا وہ سواری اور حفاظت کا کوئی انتظام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں آج ہی واپس جا کر کوشش کرتا ہوں۔ایک جیپ میجر جنرل نذیر احمد کو ملی ہوئی ہے اگر وہ مل سکی تو دو اور کا انتظام کر کے میں آؤں گا کیونکہ تین گاڑیوں کے بغیر پوری طرح حفاظت کا ذمہ نہیں لیا جا سکتا۔کیونکہ ایک جیپ خراب بھی ہوسکتی ہے اور اس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن ضرورت ہے کہ تین گاڑیاں ہوں تا سب خطرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔یہ باتیں کر کے وہ واپس لاہور گئے اور گاڑی کے لئے کوشش کی۔مگر میجر جنرل نذیر احمد صاحب کی جیپ انہیں نہ مل سکی۔وہ خود کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔آخر انہوں نے نواب محمد دین صاحب مرحوم کی کارلی اور عزیز منصور احمد کی جیپ۔اسی طرح بعض اور دوستوں کی کاریں حاصل کیں اور قادیان چل پڑے۔دوسرے دن ہم نے اپنی طرف سے ایک اور انتظام کرنے کی بھی کوشش کی اور چاہا کہ ایک احمدی کی معرفت کچھ گاڑیاں مل جائیں۔اس دوست کا وعدہ تھا کہ وہ ملٹری کو ساتھ لے کر آٹھ نو بجے قادیان پہنچ جائیں گے لیکن وہ نہ پہنچ سکے یہانتک کہ دس بج گئے۔اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ شاید گیارہ سے مراد گیارہ بجے ہوں اور یہ انتظام گیارہ بجے کے بعد ہو۔میاں بشیر احمد صاحب جن کے سپردان دنوں ایسے انتظام تھے اُن کے بار بار پیغام آتے تھے کہ سب انتظام رہ گئے ہیں اور کسی میں بھی کامیابی نہیں ہوئی۔میں نے انہیں فون کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام ” بعد گیارہ“ سے میں سمجھتا ہوں کہ گیارہ بجے کے بعد کوئی انتظام ہو سکے گا۔پہلے میں سمجھتا تھا کہ اس سے گیارہ تاریخ مراد ہے لیکن اب میرا خیال ہے کہ شاید اس سے مراد گیارہ بجے کا وقت ہے۔میرے لڑکے ناصر احمد نے بھی جس کے سپرد باہر کا انتظام تھا مجھے فون کیا کہ تمام انتظامات فیل ہو گئے ہیں۔ایک بدھ فوجی افسر نے کہا تھا کہ خواہ مجھے سزا ہو جائے میں ضرور کوئی نہ کوئی انتظام کروں گا