دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 15 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 15

15 ہوتے ہیں۔مثلاً آنحضرت ﷺ کو قیصر و کسری کی گنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے“۔(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۶۲) سفر ہجرت کے حالات حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے سفر لمصل حضرت امیر المومنین اصلح الموعود فرماتے ہیں: جماعتی طور پر ایک بہت بڑا ابتلاء ۱۹۴۷ء میں آیا اور الہی تقدیر کے ماتحت ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔شروع میں میں سمجھتا تھا کہ جماعت کا جرنیل ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قادیان میں لڑتا ہوا مارا جاؤں ورنہ جماعت میں بزدلی پھیل جائے گی اور اس کے متعلق میں نے باہر کی جماعتوں کو چٹھیاں بھی لکھ دی تھیں۔لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے مجھ پر یہ امر منکشف ہوا کہ ہمارے لئے ایک ہجرت امر مقدر ہے اور ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔ویسے تو لوگ اپنی جگہیں بدلتے ہی رہتے ہیں مگر اسے کوئی ہجرت نہیں کہتا۔ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔پس میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت یہی ہے کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے میں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑ دینا چاہئے تو اس وقت لاہور فون کیا گیا کہ کسی نہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے لیکن آٹھ دس دن تک کوئی جواب نہ آیا اور جواب آیا بھی تو یہ کہ حکومت کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے انکار کرتی ہے اس لئے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی ، میں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا۔الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا بعد گیارہ ( تذکرہ صفحہ ۳۲۷) میں نے خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ