دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 161 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 161

161 ہوئے اور بچوں کو پیار کرتے ہوئے گیٹ سے باہر تشریف لائے اور قطار میں کھڑے ہوئے ہر فرد کو مصافحہ کا شرف بخشتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ان میں احمدی احباب کے علاوہ مقامی سکھ اور ہندو بھی تھے جنہوں نے بڑھ بڑھ کر حضور انور سے شرف مصافحہ پایا۔سوا گیارہ بجے آپ احباب سے مل کر دار اسیح میں تشریف لائے تو آپ کی کا ر اور قافلہ کی دوسری کاریں روانگی کے لئے تیار تھیں۔حضور نے کار کے قریب آکر الوداعی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ آنسو اور ہچکیوں کے بندٹوٹ گئے جیسے سینے پھٹ رہے ہوں اور دل حلق کو پہنچ گئے ہوں۔یہ منظر بہت ہی دلگداز اور رقت آمیز تھا۔خود پیارے آقا کی آنکھوں سے آنسو ڈھلک ڈھلک کر رخسار مبارک سے ہوتے ہوئے ریش مبارک میں جذب ہو رہے تھے۔سوز و گداز اور ہچکیوں میں ڈوبی ہوئی الوداعی دعاختم ہوئی۔حضور کار میں تشریف لے گئے۔مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے کار کا دروازہ بند کیا۔کارنے رینگنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ جدائی کے اس قیامت خیز ماحول سے نکلنا شروع ہوئی۔ہر فرد بشر جو وہاں موجود تھا، کار کی طرف امڈ رہا تھا اور اسکے شیشوں میں سے اپنے آقا کو ایک نظر دیکھنے کے لئے بے قابو ہورہا تھا۔لیکن کار آہستہ آہستہ آگے بڑھتی رہی اور جسمانی فاصلے بھی بڑھتے رہے لیکن روح و قلب کے رشتوں کو مزید مضبوط، تازہ اور دیر پا کر گئے۔حضور انور کا قافلہ چوک احمدیہ سے ہوتا ہوا قادیان سے امرتسر کے لئے روانہ ہوا اس قافلہ میں قافلہ کی پانچ کاروں کے ساتھ دو پولیس ایسکورٹ کی گاڑیاں بھی تھیں جن میں سے ایک قافلے کے آگے اور دوسری پیچھے تھی۔یہ قافلہ سو بارہ بجے امرتسر سٹیشن پر پہنچ گیا۔حضور انور نے اسٹیشن پر ویٹنگ روم میں انتظار فرمایا۔شان پنجاب گاڑی جو امرتسر سے دو بجکر دس منٹ پر دہلی کے لئے روانہ ہوتی ہے۔لیٹ ہو کر تین بجکر پندرہ منٹ پر روانہ ہوئی۔اس دوران کئی ملنے والے آپ سے شرف ملاقات پاتے رہے ہندو اور سکھ دوست بھی آئے۔امرتسر میں پنجابی کے ایک اخبار اجیت“ کے نمائندہ نے وہیں انتظارگاہ میں حضور انور کا انٹرویو بھی لیا۔مکرم سمنت کمار گوئیل صاحب سینئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی خاص طور پر گورداسپور سے آپ کے شرف ملاقات کے لئے امرتسر اسٹیشن پر