دورۂ قادیان 1991ء — Page 162
162 تشریف لائے اور شرف یاب ہوئے۔قافلہ کے ساتھ قادیان سے آئے ہوئے خدام نے وہیں انتظارگاہ میں کھانا کھایا، پیارے آقا سے مصافحہ کا شرف پایا اور تصاویر بھی اتروائیں۔گاڑی جب پلیٹ فارم پر آگئی تو حضور اہل خانہ سمیت گاڑی میں تشریف لے آئے۔آپ گاڑی کے دروازے میں کھڑے رہے۔اس اثنا میں کئی خدام نے شرف مصافحہ پایا۔نیز ہندو بھی بڑی عقیدت سے آکر ملے۔تین بجکر بیس منٹ پر گاڑی نے سیٹی بجائی اور آہستہ آہستہ رینگنا شروع ہوئی تو خدام جو پلیٹ فارم پر آقا کو الوداع کے لئے کھڑے تھے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو گئے۔گاڑی تیز ہوئی تو خدام ساتھ ساتھ بھاگنے لگے۔گاڑی مزید تیز ہوئی تو یہ اور بھی تیزی سے بھاگنے لگے۔پلیٹ فارم ختم ہو گیا تو خدام پڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے رہے حتی کہ گاڑی تیز سے تیز سے اور دور تر ہوتی گئی۔حضور گاڑی کے دروازے میں ہی کھڑے خدام کو دیکھتے رہے اور ہاتھ ہلاتے رہے۔یہاں تک کہ خدام بلکہ امرتسر اسٹیشن بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔گاڑی تین بجکر بیس منٹ پر امرتسر سے روانہ ہو کر شام ساڑھے دس بجے دہلی پہنچی۔ریلوے اسٹیشن پر دہلی کے خدام اور ان کے علاوہ مختلف جماعتوں سے آئے ہوئے احباب استقبال کے لئے موجود تھے۔حضور انور مع اہل خانہ وافراد قافلہ ساڑھے گیارہ بجے مسجد بیت الہادی وایوان المهدی میں پہنچے۔جہاں حیدر آباد سے چالیس کے قریب افراد پیارے آقا سے فیض پانے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔آپ نے ان کو ملاقات کا شرف بخشا بعد ازاں حضور انور اپنی قیامگاہ میں تشریف لے گئے۔دو "FRIDAY The 10th' اسیران راہ مولی سکھر کی اعجازی رہائی کا نشان قادیان سے دہلی کے سفر کے دوران امرتسر اسٹیشن پر انتظار گاہ میں انتظار کافی طویل تھا۔اس اثنا میں دہلی مشن ہاؤس میں فون کیا گیا تو وہاں سے اچانک ایک غیر معمولی خوشی کی خبر ملی کہ ہائی کورٹ سندھ نے سکھر کے اسیرانِ راہ مولیٰ مکرم پروفیسر ناصر احمد قریشی صاحب اور مکرم رفیع احمد قریشی صاحب کی رہائی کے احکام جاری کر دیئے ہیں۔یہ دونوں اسیرانِ راہِ مولیٰ ۱۹۸۴ء سے محض