دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 160 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 160

160 ملاقات کا شرف بخشنے ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ان گھروں سے ہو کر اور ان کے مکینوں سے مل کر حضور انور دار المسیح کے بڑے گیٹ کے سامنے سے ہوتے ہوئے مدرسہ احمدیہ میں تشریف لے گئے۔جہاں مدرسہ کے طلبہ واساتذہ ایک قطار میں کھڑے تھے۔حضور نے ان سے مصافحہ فرمایا اور گروپ فوٹو ہوئی۔اس کے بعد آپ مکرم مولوی بشیر احمد صاحب طاہر، بکرم ذوالفقار احمد صاحب اور مکرم رشید احمد صاحب ملکانہ کے گھروں میں تشریف لے گئے۔یہاں سے آپ دارا صیح میں واپس تشریف لائے تو سامنے مسجد مبارک کی سیٹرھیوں کے قریب مکرم طالب یعقوب صاحب مبلغ سلسلہ زائر کی فیملی اور سسرال والے مکرم محمد شریف صاحب گجراتی مرحوم کے خاندان کے افراد نیز مکرم عبدالحمید ٹاک صاحب صوبائی امیر کشمیر کے افراد خاندان کھڑے تھے۔ان تینوں خاندانوں نے اپنے آقا کے ہمراہ ملاقات کا شرف بھی پایا اور تصاویر بھی اتروا ئیں۔یہاں سے فراغت کے بعد حضور انور مکرم ملک صلاح الدین صاحب مؤلف اصحاب احمد اور مکرم مولوی محمد ایوب سا جد صاحب مبلغ سلسلہ راجستھان کے گھروں میں تشریف لے گئے۔( دونوں گھر احاطہ دارا مسیح میں ہیں) ان گھروں سے آپ باہر تشریف لائے تو سوا آٹھ بج چکے تھے۔یہاں سے آپ اپنے گھر تشریف لے گئے۔صبح 11 بجے حضرت خلیفہ اسیح کے قادیان سے رخصت ہونے کا وقت تھا۔دیار مسیح سے چوالیس سال کے فراق کے بعد وصل کے جو چند دن میسر آئے تھے وہ آج ختم ہورہے تھے اور جو چند گھڑیاں اب باقی تھیں لمحہ فراق انہیں بڑی سرعت سے قطع کرتا چلا جارہا تھا۔لوگ صبح نو بجے سے ہی دار امسیح اور اس کے گرد جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔منتظمین نے دار مسیح کے گیٹ سے اندر عورتوں کو دور و یہ کھڑا کر دیا تھا اور گیٹ سے باہر مردوں کو۔عورتوں کی کثرت کی وجہ سے احاطہ چھلک رہا تھا جبکہ مرد باہر سٹرک کے دونوں طرف کھڑے تھے۔اُن کی قطار میں دارا مسیح کے بیرونی گیٹ سے شروع ہوکر لنگر خانہ تک جا چکی تھیں۔انہیں قطاروں کی ایک شاخ مدرسہ احمدیہ میں بھی اندر تک چلی گئی تھی۔حضور انور تقریباً دس بجے دفتر تشریف لائے۔وہاں بعض ضروری امور کی انجام دہی کے بعد ساڑھے دس بجے باہر تشریف لائے اور مستورات والے حصہ میں دونوں طرف ”السلام علیکم کہتے