دورۂ قادیان 1991ء — Page 158
158 موت کا پیغام سمجھی جاتی تھی شفایاب ہو گئے اور نہ صرف شفایاب ہو گئے بلکہ۹۰،۸۰ سال کے قریب عمر پائی اور ملکی تقسیم کے کافی عرصہ بعد قادیان میں فوت ہوئے۔لالہ ملا وامل اور لالہ بڈھا مل کے خاندانوں میں سے یہ لوگ جب حضور انور سے ملنے آئے تو آپ نے انہیں جماعت کی ترقی اور اسکی عظمتوں کے بارہ میں بتایا۔خاکسار ( راقم الحروف ہادی علی چشم دید گواہ ہے کہ انہوں نے برجستہ کہا کہ وہ خود جماعت احمدیہ کی عظمت اور اس کی صداقت کے گواہ ہیں۔“ ان ملاقاتوں کے بعد حضور انور نماز مغرب وعشاء کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔قادیان کے اس سفر کی یہ آخری نماز مغرب اور نماز عشاء تھی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد آپ محراب میں ہی رونق افروز رہے۔محترم صاحبزادہ مرزا اوسیم احمد صاحب ناظر اعلیٰ قادیان نے محترم طاہر احمد چیمہ صاحب ابن چوہدری منظور احمد چیمه در ولیش مرحوم کے نکاح ہمراہ امتہ الحکیم صاحبہ بنت شیخ ذوالفقار احمد صاحب آف قادیان کا اعلان کیا۔اس نکاح کو حضور انور نے اپنی موجودگی سے برکت بخشی اور دعا میں شمولیت فرمائی۔اس کے بعد حضور انور مسجد مبارک سے نکل کر بیت الدعا میں تشریف لے گئے۔بعد ازاں وہاں سے دفتر تشریف لائے جہاں مکرم عبدالحمید ٹاک صاحب صوبائی امیر کشمیر ، مکرم اللہ بخش صادق صاحب ناظر خدمت درویشاں اور مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر اعلی قادیان نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر دفتری امور طے کئے۔ان کے بعد بعض انفرادی ملاقاتیں ہوئیں اور بعض احباب نے حضور انور کے ساتھ تصاویر بھی اتروا ئیں۔یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا اور حضورانوررات گئے تک دفتر میں تشریف فرمار ہے۔آج بفضلہ تعالیٰ حضور انور کی صحت بہت بہتر تھی۔