دورۂ قادیان 1991ء — Page 159
۱۴ جنوری ۱۹۹۲ء بروز منگل 159 قادیان سے روانگی حضرت خلیفقہ اسی نے نماز فجر مسجد مبارک میں پڑھائی۔پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ بقرہ کا پہلا رکوع اور دوسری رکعت میں دوسرے رکوع سے آیت نمبر 17 تک تلاوت فرمائی۔یہ نماز فجر قادیان کے اس سفر کی آخری نماز تھی۔نماز کے بعد سب احباب جماعت کو آپ نے ” السلام علیکم کہا اور مسجد کے شمالی دروازے سے الدار کی طرف بڑھے ( یہ راستہ حضور انور کی قیامگاہ کی طرف بھی جاتا ہے ) تو احباب جماعت جو آگے بڑھ کر آپ سے ہاتھ ملا سکتے تھے، انہیں آپ نے شرف مصافحہ بخشا اور پھر گھر تشریف لائے۔چند منٹوں کے بعد حضرت صاحب بہشتی مقبرہ میں دعا کے لئے تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ آپ کی دو بیٹیاں صاحبزادی عطیہ المجیب طوبی صاحبہ اور صاحبزادی یا ہمیں رحمن مونا صاحبہ بھی تھیں۔بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ، حضرت ام طاہر اور حضرت سیّد عبدالستار شاہ اور دیگر مبارک مزاروں پر دعا کے بعد حضور انور حسب ذیل افراد کے گھر تشریف لے گئے۔قریشی محمد شفیع عابد صاحب درویش ۲ محمد یوسف گھڑ ا صاحب مرحوم ۳۔محمد انعام ذاکر صاحب ۴۔چوہدری عبدالحق صاحب درویش مرحوم ۵۔مولانامحمد انعام غوری صاحب ۶۔چوہدری عبدالقدیر صاحب درویش مرحوم ۷۔چوہدری منظور احمد چیمه صاحب درویش مرحوم ۸۔مولانا محمد شریف احمدامینی صاحب در ولیش مرحوم ۹ ممتاز احمد ہاشمی صاحب درویش ۱۰۔چوہدری بدرالدین عامل صاحب درویش ( یہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے مکان میں رہائش پذیر ہیں ) ۱۱۔مولوی محمد حفیظ صاحب بقاپوری درویش مرحوم ۱۲ ماسٹر محمد ابراہیم صاحب درویش۔حضور جس درویش کے گھر گئے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ہر کوئی اپنی خوش قسمتی پر نازاں و فرحاں تھا۔یہ چند لحات ان کی زندگیوں کے دلکش ترین لمحات تھے۔جو در ولیش بیمار یا معذور تھے، حضور خود ان کی عیادت کے لئے اور انہیں سعادتوں بھری