دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 157 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 157

157 T۔Vنیوز کمپنی VIS News جو دنیا بھر کو T۔V کی خبریں ترسیل کرتی ہے، کے نمائندہ نے دار المسیح میں آکر حضور کا انٹر ویولیا جو نصف گھنٹہ تک جاری رہا۔اس انٹرویو کے بعد خاکسار ( ہادی علی ) نے دفتری امور سے متعلق آپ سے ہدایات حاصل کیں۔پھر قادیان کی اصلاحی کمیٹی کی آپ سے میٹنگ تھی۔یہ میٹنگ تقریباً ہمیں منٹ جاری رہی۔اس کے بعد بعض انفرادی ملاقاتیں ہوئیں۔جن میں احباب جماعت کے علاوہ قادیان کے مقامی ہندو سکھ اصحاب بھی شامل تھے۔ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہندو دوست لالہ ملا وامل کے خاندان سے کرشن لال صاحب ابن لالہ سیٹھ پیارے لال اور جواہری لال صاحب ابن سیٹھ رام نارائن اور لالہ بڈھا مل کے پڑپوتے آر۔این ابرول صاحب اور ڈاکٹر انیل کمارا برول صاحب قابلِ ذکر ہیں۔ڈاکٹر انیل ابرول صاحب پہلے بھی حضور انور سے شرف ملاقات حاصل کر چکے تھے۔لالہ ملاوامل اور لالہ بڑھامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے کئی ایک الہی نشانات کے گواہ تھے۔ان کا ذکر آپ کی کئی کتب میں موجود ہے۔لالہ ملا وامل صاحب نو جوانی کے زمانہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔مگر اپنے مذہبی اور قومی تعصب میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ آپ نے انہیں کئی دفعہ اُن خدا داد نشانوں کی گواہی کے لئے بلا یا جو اُن کی آنکھوں کے سامنے گزرے تھے اور وہ اُن کے چشم دید اور گوش شنید گواہ تھے۔مگر وہ ہمیشہ مذہبی تعصب کی وجہ سے شہادت دینے سے گریز کرتے رہے۔ایک دفعہ یہی لالہ ملا وامل صاحب دق کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور حالت بالکل مایوسی اور نا امیدی کی ہوگئی۔اس پر وہ ایک دن بے چین ہوکر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت زار بتا کر بہت روئے اور باوجود مخالف ہونے کے اُس اثر کی وجہ سے جو آپ کی نیکی کے متعلق اُن کے دل میں تھا آپ سے عاجزی کے ساتھ دعا کی درخواست کی۔آپ کو اُن کی یہ حالت دیکھ کر رحم آگیا اور آپ کا دل بھر آیا۔آپ نے اُن کے لئے خاص توجہ سے دُعا کی جس پر آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا : يَا نَارُ كُونِي بَرْد أَوَّ سَلاماً۔یعنی اے بیماری کی آگ تو اس نوجوان پر ٹھنڈی ہو جا اور اس کے لئے حفاظت اور سلامتی کا موجب بن جا“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ: ۲۷۷) چنانچہ اس کے بعد لالہ ملا وامل صاحب بہت جلد اس خطرناک مرض سے جو ان ایام میں گویا