دورۂ قادیان 1991ء — Page 156
156 صاحب پشاوری مرحوم کی بیوہ ، مکرم ڈاکٹر دلاور خان صاحب کارکن دعوة وتبلیغ مکرم مولوی محمد عمر علی صاحب در ولیش ، مکرم گیانی عبداللطیف صاحب درویش، مکرم قاضی عبدالحمید صاحب در ولیش ، مکرم مولوی برکت علی صاحب انعام درویش اور مکرم غلام حسین صاحب درویش کے گھروں میں تشریف لے جا کر برکت بخشی۔یہاں سے فراغت کے بعد حضور گھر تشریف لائے اور پھر ساڑھے نو بجے دفتر میں آئے۔یہاں مکرم ناظر صاحب خدمت درویشاں ربوہ ،مکرم ناظم صاحب وقف جدید قادیان ، مکرم وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید قادیان اور مکرم ناظر صاحب بیت المال خرچ قادیان کے ساتھ میٹنگ ہوئی جس میں مختلف مالی امور زیر غور آئے۔ادھر مسجد اقصیٰ میں 'بادشاہوں سے بھی افضل درویشان قادیان اپنے آقا کے ساتھ ملاقات کے لئے جمع تھے۔حضرت صاحب سوا دس بجے مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے اور ان کے درمیان رونق افروز ہوئے ،سب سے مصافحہ فرمایا اور تعارف حاصل فرمایا اور پھر گروپ فوٹو ہوئی۔اس کے بعد قادیان کے مختلف حلقوں اور محلوں کی ملاقات تھی۔حضور نے مسجد اقصٰی میں مردوں سے الگ اجتماعی اور عورتوں سے الگ اجتماعی ملاقات فرمائی۔ان ملاقاتوں میں بچوں کی تعلیمی اور ورزشی مساعی کا جائزہ بھی لیا گیا۔اس سلسلہ میں آپ نے ہدایات جاری فرما ئیں اور بتایا کہ ایک زمانہ میں کھیلوں کے میدان میں قادیان کی بڑی نیک شہرت تھی اور بلند نام تھا۔اسے بحال کرنے کی کوشش کی جائے نیز بتایا کہ کھیلیں جہاں صحت کیلئے انتہائی ضروری ہیں وہاں تربیت کے لئے خاص کردار ادا کرتی ہیں۔ملاقاتوں کے بعد آپ دفتر میں تشریف لائے جہاں مکرم ناظر صاحب خدمتِ درویشاں ربوہ اور صدر انجمن احمد یہ قادیان کے مختلف ناظر صاحبان اور بعض دیگر شعبہ جات کے انچارج صاحبان نے اپنے اپنے کام کے بارہ میں باری باری آکر حضور سے ہدایات حاصل کیں۔اس دوران کئی ایک انفرادی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔نماز ظہر و عصر ڈیڑھ بجے ادا کی گئیں۔اس کے بعد حضور گھر تشریف لے گئے اور۳ بجکر ۴۵ منٹ پر پھر دفتر تشریف لے آئے اور مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو دفتری امور کی بابت ہدایات دیں۔بعد ازاں چند انفرادی ملاقاتیں ہوئیں جن کے بعد ہندوستان کی سب سے بڑی