دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 155 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 155

155 ہوئے قادیان دارالامان پہنچے۔رات کی سیاہی چار سو اپنا دامن پھیلا چکی تھی۔رات کی یہ سیاہی قادیان دارالامان میں امن وسکون کی ایک دلفریب و دلآویز چادرمحسوس ہوتی تھی۔جس کے درمیان نور اور سلامتی کا نشان سفید منارۃ اسیح بڑی عظمت اور جلال اور شان کے ساتھ برقی قمقموں سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔حضور کے قافلہ میں مندرجہ ذیل احباب شامل تھے۔آپ کی بیٹیاں صاحبزادی محترمہ فائزہ بیگم صاحبہ، صاحبزادی عطیہ المجیب صاحبہ صاحبزادی یاسمین رحمان صاحبہ، حضور انور کا نواسہ مرزا عدنان احمد صاحب۔نیز صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب، آپ کی بیٹی صاحبزادی امتہ الرؤف صاحبہ مع اپنی بیٹی ہبتہ الاعلی۔ان کے علاوہ مکرم آفتاب احمد خان صاحب، خاکسار ( ہادی علی ) مکرم میجر محمود احمد صاحب، مکرم ملک اشفاق احمد صاحب، مکرم سید فضل احمد صاحب، مکرم خالد نبیل ارشد صاحب ، مکرم مسعود حیات صاحب، مکرم سعید جسوال صاحب اور مکرم محمد احمد جسوال صاحب۔اسی طرح مکرم سعادت احمد صاحب نائب ناظر امور عامہ ابن حضرت مولوی عبد الرحمان صاحب جٹ کے ساتھ قادیان کے کئی خدام تھے جن کے سپر د سیکیورٹی کی ڈیوٹی اور دیگر انتظامات کی سرانجام دہی تھی۔نماز مغرب وعشاء کے بعد حضور نے مکرم عبد الحمید ٹاک صاحب صوبائی امیر کشمیر اور مکرم مولوی محمد انعام غوری صاحب صدر اصلاحی کمیٹی قادیان کے ساتھ میٹنگ کی۔۱۳ جنوری ۱۹۹۲ء بروز سوموار۔قادیان حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے نماز فجر مسجد مبارک میں پڑھائی۔نماز کے بعد آپ بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے۔بہشتی مقبرہ میں دعا کے بعد آپ مکرم محمد شفیع صاحب مرحوم درویش کی بیوہ کے گھر گئے۔پھر آپ نے مکرم خان فضل الہی صاحب در ولیش ، مکرم سید شهامت علی در ولیش، مکرم سید صباح الدین صاحب انسپکٹر وقف جدید، مکرم مولوی منظور احمد گھنو کے درویش ،مکرم ملک نذیر احمد