دورۂ قادیان 1991ء — Page 154
154 یہاں کا ہر شخص آپ کو یاد کرتا ہے۔اب آپ پھر یہاں آجا ئیں تو اس بستی کے بھاگ جاگ اٹھیں گے۔حضور انور نے چند لمحے کار میں بیٹھے بیٹھے ان لوگوں سے باتیں کیں اور پھر قافلہ آگے بڑھ گیا۔کچھ عرصہ بعد پھیر و پیچی کا ایک عمر رسیدہ سکھ احمد یہ ہسپتال میں علاج کے سلسلے میں قادیان آیا تو یہاں ایک احمدی دوست قریشی فضل اللہ صاحب سے ملا۔تعارف کے بعد اس نے حضور کے وہاں جانے کا ذکر بھی کیا۔جب اس سے حضور کی شخصیت کے بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگا: وہ تو کوئی ربی نور تھا۔عام انسان نہ تھا۔اس کے چہرے کے پیچھے الہی قدرت نظر آتی تھی اور وہ ایسی روح رکھتا تھا جو بہت کم دنیا میں آتی ہے۔“ پھیرو پیچی سے روانہ ہو کر حضور کا قافلہ ” چک شریف“ سے ہوتے ہوئے ”شالے کے پتین سے کشتی کا پل عبور کر کے مکیریاں کے راستے ڈھانگو کی پہاڑیوں میں سے گزر کر دریائے چکی کے ساتھ واقع P۔W۔D کے ریسٹ ہاؤس میں کچھ دیر قیام کے لئے رکا۔یہیں دو پہر کا کھانا کھایا گیا اور نماز ظہر عصر ادا کی گئیں۔یہ وہ ریسٹ ہاؤس ہے جہاں ڈلہوزی آتے جاتے حضرت مصلح موعود کھانے اور آرام کیلئے ٹھہرا کرتے تھے۔حضور انور نے مع قافلہ یہاں تھوڑی دیر قیام کیا ،نماز ظہر وعصر پڑھیں اور کھانا کھایا۔وہاں پر تقریباً دو گھنٹے قیام کے بعد ۳ بجے کے قریب رخصت ہو کر مادھو پور پہنچے۔یہاں دریائے بیاس پر ایک ڈیم ہے جس سے اپر باری دوآب نہر نکلتی ہے۔اس نہر کی دوشاخیں ہیں مشرقی شاخ ہر چووال ہے اور مغربی شاخ تلے والی کہلاتی ہے۔یہ مؤخر الذکر شاخ قادیان کے قریب سے بھی گزرتی ہے۔احمدیت کی تاریخ میں اس نہر کی ایک تاریخی اور یادگار حیثیت یہ بھی ہے کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہوئے تو آپ اسی نہر کے پل تک ان کے الوداع کے لئے اُن کے ساتھ آئے تھے۔مادھو پورہ سے اپر باری دو آب نہر کے ساتھ ساتھ حضور انور بھیم سنگھ کے بنگلہ میں آئے۔قادیان سے ڈلہوزی جاتے ہوئے حضرت مصلح موعود اس بنگلہ میں بھی ٹھہرا کرتے تھے۔ایک لمحہ وہاں رکنے کے بعد حضور انور عازمِ قادیان ہوئے۔گورداسپور سٹھیالی،کوٹ ٹوڈرمل اور کھارا سے ہوتے