دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 102 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 102

102 - واهے گرو۔اللہ اکبر، واھے گرو۔اللہ اکبر کے نعروں میں یہ نظم ختم ہوئی تو پونے چار بج چکے تھے۔مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ناظر تعلیم ربوہ نے حضور کی اجازت سے ( روایت کے مطابق جلسہ سالانہ کے موقع پر ) پاکستان کے نمایاں اور امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے احمدی طلباء و طالبات میں سندات اور طلائی تمغہ جات کی تقسیم کی گیارھویں تقریب کا اعلان کیا ہے اس سال بعض مجبوریوں کی وجہ سے تمغوں کے استحقاق کے صرف سرپیلیٹس تقسیم کئے گئے۔اس سے قبل تمغہ جات کی دس تقاریب منعقد ہو چکی ہیں۔جن میں ۵۸ طلباء وطالبات میں انعامی تمغہ جات تقسیم کئے جاچکے ہیں۔یہ تقریب اس سلسلہ کی گیارھویں تقریب تھی جو آٹھ سال کے بعد منعقد کی جارہی تھی۔دسویں تقریب ۱۹۸۳ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ میں منعقد ہوئی تھی۔یہ تقریب خلافت رابعہ کی تیسری تقریب تھی۔اس کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ قادیان میں اور صد سالہ جلسہ سالانہ میں منعقد ہونے والی پہلی تقریب تھی۔اس میں ۱۳ طلباء وطالبات یا اُن کے نمائندوں کو سرٹیفیکیٹ دیئے گئے۔مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ناظر تعلیم ربوہ نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا۔جو نبی کسی طالب علم کا نام لیا جاتا وہ یا اُس کا نمائندہ جلسہ کے سٹیج پر حاضر ہوتا۔حضور اُس سے مصافحہ فرماتے اور اسے سرٹیفیکیٹ عطا کرتے ہوئے بارك الله لكم “ کہتے۔اس موقع پر جن طلباء وطالبات کو ٹر یفکیٹ دیئے گئے اُن کی تفصیل درج ذیل ہے۔(۱) مکرم مصلح الدین صاحب ابن مکرم محمد علیم الدین صاحب آف اسلام آبادایم ایس سی اکنامکس کے فائنل امتحان ۱۹۸۲ء میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں اول آئے۔موصوف چونکہ قادیان تشریف نہیں لا سکے، اس لئے ان کے والد محترم نے انکی جگہ سر ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۲) مکرم خالد مرزا صاحب ابن مکرم مرزا مظفر احمد صاحب آف کراچی الیکٹریکل انجینئر نگ (بی ای) کے فائنل امتحان ۱۹۸۲ء میں این ای ڈی یو نیورسٹی کراچی میں اول آئے۔موصوف چونکہ قادیان تشریف نہیں لا سکے، اس لئے ان کے نانا مکرم محترم مرزا عبدالحق صاحب نے ان کی جگہ سر ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۳) مکرم محمود اکبر صاحب ابن مکرم چوہدری نو راحم صاحب آف لاہور۔بی ایس سی اپلائیڈ جیالوجی