دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 103 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 103

103 کے فائنل امتحان ۱۹۸۳ ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اول آئے۔موصوف نے ۱۹۸۵ء میں بھی پنجاب یو نیورسٹی لاہور ہی سے ایم ایس سی اپلائیڈ جیالوجی کے فائنل امتحان میں بھی اوّل پوزیشن حاصل کی۔اسی طرح عزیز موصوف دوسرٹیفیکیٹس کے مستحق قرار پائے۔چونکہ وہ خود تشریف نہیں لے جا سکے تھے، اس لئے اُن کی جگہ پر ان کے والد محترم نے ٹیفکیٹ وصول کئے۔(۴) مکر مہ خالدہ سولنگی صاحبہ بنت مکرم نذیر احمد صاحب سونگی آف ربوہ ایم ایس سی زوالوجی کے فائنل امتحان ۱۹۸۳ء میں پنجاب یونیورسٹی سے اول آئیں۔عزیزہ چونکہ خود تشریف نہیں رکھتی تھیں، اس لئے ان کی جگہ ان کے والد محترم نے ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۵) مکرم منصور احمد چغتائی صاحب ابن مکرم طاہر احمد صاحب چغتائی آف ساہیوال انٹرمیڈیٹ کے فائنل امتحان ۱۹۸۴ء میں ملتان بورڈ میں اول آئے۔عزیز چونکہ خود حاضر نہیں تھے، اس لئے انکے ماموں مکرم میاں محمد افضل صاحب نے ٹریفکیٹ وصول کیا۔(۶) مکرمہ کوکب منیرہ صاحبہ بنت مکرم علی حیدر صاحب آف دوالمیال ایم۔اے اکنامکس کے فائنل امتحان ۱۹۸۶ء میں بلوچستان یونیورسٹی میں اول آئیں۔عزیزہ چونکہ خود تشریف نہ لاسکیں ، اس لئے ان کی جگہ ان کے بھائی مکرم ڈاکٹر ملک مدثر احمد صاحب نے ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۷) مکرم عبداللطیف صاحب ابن مکرم عبد المجید صاحب آف اسلام آباد ایم ایس سی اکنامکس کے فائنل امتحان ۱۹۸۶ء میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں اول آئے۔موصوف چونکہ خود جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت نہ کر سکے، اس لئے ان کی جگہ ان کے بھائی مکرم عبدالرشید صاحب نے ٹریفکیٹ وصول کیا۔(۸) مکرم منور احمد بھٹی صاحب ابن مکرم عبدالسمیع صاحب آف کنری ضلع تھر پارکر ایم۔اے اسلامک ہسٹری کے فائنل امتحان ۱۹۸۱ء میں کراچی یونیورسٹی میں دوئم آئے۔انہوں نے خود حضورِ انور سے اپنا ٹیفکیٹ وصول کیا۔(۹) مکرم اعجاز احمد رؤف صاحب ابن مکرم عبد الجبار صاحب آف ربوہ۔ایم ایس سی فزکس کے فائنل امتحان ۱۹۸۳ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں دوئم آئے۔چونکہ موصوف جلسہ سالانہ میں شامل نہیں