دورۂ قادیان 1991ء — Page 96
96 ستیدا! ہے آپ کو شوق لقائے قادیاں ہجر میں خوں بار ہیں یاں چشمہائے قادیاں تڑپتے ہیں کہاں ہے زینت دار الاماں رونق بستان احمد دل ربائے قادیاں جان پڑ جاتی تھی جن سے وہ قدم ملتے نہیں قالب بے روح سے ہیں کوچہ ہائے قادیاں فرقت مہ میں ستارے ماند کیسے پڑ گئے ! ہے نرالا رنگ میں اپنے سمائے قادیاں وصل کے عادی سے گھڑیاں ہجر کی کٹتی نہیں بار فرقت آپ کا کیونکر اٹھائے قادیاں روح بھی پاتی نہیں کچھ چین قالب کے بغیر ان کے منہ سے بھی نکل جاتا ہے ہائے قادیان" ہو وفا کو ناز جس پر جب ملے ایسا مطاع کیوں نہ ہو مشہور عالم پھر وفائے قادیاں کیوں نہ تڑپا دے وہ ، دنیا کو اپنے سوز سوز سے درد میں ڈوبی نکلتی ہے صدائے قادیاں اس گل رعنا کو جب گلزار میں پانی نہیں ڈھونڈ نے جاتی ہے تب بادصبائے قادیاں یاد جو ہر دم رہے اس کو دعائے خاص میں کس طرح دیں گے بھلا اہل وفائے قادیاں دین محمد جس نے کی تیرے سپرد ہو تری کشتی کا حافظ وہ خدائے قادیاں ہیں آئیں گے کب حضرت فضل عمر سوئے رہ نگراں ہیں ہردم دیدہ ہائے قادیاں ہیں سب دعا ہو کر سراپا آرزو جلد شاہ قادیاں تشریف لائے قادیاں ملت جلد فارغ دورہ مغرب سے ہو مطلع مشرق سے پھیلائے ضیائے قادیاں خیریت سے آپ کو اور ساتھ سب احباب کو جامع المتفرقين جلدی سے لائے قادیاں آئیں منصور و مظفر کامیاب و کامراں قصر تنگیشی گاڑ آئیں لوائے قادیاں پیشوائی کے لئے نکلیں گھروں سے مردوزن یہ خبر سن کر کہ آئے پیشوائے قادیاں ابر رحمت ہر طرف چھائے، چلے بادِ کرم بارش انوار سے پر ہو فضائے قادیاں احمد میں آجائے بہار اندر بہار دل لبھائے عندلیب خوشنوائے قادیاں معرفت کے گل کھلیں تازہ بتازہ نوبنو جن کی خوشبو سے مہک اٹھے ہوائے قادیاں مانگتے ہیں ہم دعائیں آپ بھی مانگیں دعا حق سنے اپنے کرم سے التجائے قادیاں