دورۂ قادیان 1991ء — Page 97
97 علم و توفیق بلاغ دین ہو ان کو عطا قادیاں والوں کا ناصر ہو خدائے قادیاں راہ حق میں جب قدم آگے بڑھادے ایک بار سر بھی کٹ جائے نہ پھر پیچھے ہٹائے قادیاں ہر دو جہاں کی رحمتیں ہوں آپ پر والسلام اے شاہ دیں اے رہنمائے قادیاں اس پر سوز نظم کے بعد دوسری نظم حضور انور کی صاحبزادی محترمہ یاسمین رحمن مونا صاحبہ نے پڑھی۔بینظم بھی حضرت نواب مبارکہ بیگم رضی اللہ عنہا کی ہے جو درج ذیل ہے۔خالق پھر دکھا دے مجھے مولا مرا شاداں ہونا صحن خانہ کا مرے رشک گلستان ہونا ان کے آتے ہی مرے غنچۂ دل کا کھلنا اس خزاں کا مری صد فصل بہاراں ہونا خلقت انس میں ہے انس و محبت کا خمیر گر محبت نہیں بیکار ہے انساں ہونا قابل رشک ہے اس خاک کے پتلے کا نصیب جس کی قسمت میں ہو خاک در جاناں ہونا رو کے کہتی ہے زمیں گرنہ سنے نام خدا ایسی بستی سے تو بہتر ہے بیاباں ہونا فعل دونوں ہی نہیں شیوہ مرد مومن رونا تقدیر کو تدبیر نازاں ہونا لله الحمد چلی رحمت باری کی نسیم دیکھنا غنچہ دل کا گل خنداں ہونا اس کے بعد حضور انور نے مستورات سے خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے دین میں عورت کا مقام ، احمدی عورت کی ذمہ داریاں خصوصاً تربیت اولا داور انہیں جنت کا وارث بنانے میں کردار نیز لجنہ اماء اللہ بھارت کی مختلف شعبوں میں مساعی کا ذکر خیر فرمایا اور انہیں نصائح بھی فرمائیں۔نماز مغرب وعشاء کے بعد ساڑھے آٹھ بجے سے سوا دس بجے تک حضور نے پاکستان سے آنے والے ان تمام مہمانوں کو جو اس سے قبل اجتماعی ملاقات میں شامل نہ ہو سکے تھے۔اجتماعی ملاقات کا شرف بخشا۔فلو کی وجہ سے آپ کی طبیعت اگر چہ آج بھی ناساز تھی لیکن بفضلہ تعالیٰ آپ جملہ امور معمول کے مطابق سرانجام دیتے رہے۔