مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 64

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 64 تعجب انگیز بات یہ بھی ہے کہ یہ امر کہ تخلیق کائنات کے پورے عمل میں خدا کے ساتھ مسیح اور روح القدس بھی شریک تھے ابتدائے آفرینش سے لے کر اس وقت تک پردہ راز میں ہی رہا جب تک کہ مسیح دنیا میں نہ آیا۔بلکہ ہم دیکھتے ہی کہ خود مسیح نے بھی اس راز پر سے پردہ نہ اٹھایا اور اسے اپنے سینہ میں ہی دفن کیے رکھا کیونکہ ہمیں یسوع مسیح کا کوئی قول ایسا نہیں ملتا۔جس میں اس نے اپنے آپ کو دعویٰ کے رنگ میں کلام“ قرار دیا ہو۔لہذا یہ بات واضح ہے کہ دونوں ( مسیح اور روح القدس) میں سے کسی کا بھی کائنات کی تخلیق یا اس کی وضع قطع اور صورت گری میں کوئی عمل دخل سرے سے تھا ہی نہیں۔پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ صرف یہ ”باپ خدا ہی تھا جس نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے مٹی سے بنایا۔میں نے عیسائی لٹریچر میں کہیں یہ نہیں پڑھا کہ جن ہاتھوں نے انسان کو بنایا وہ مسیح اور روح القدس کے ہاتھ تھے۔ہر چیز خدا نے مسیح یا روح القدس کی خفیف سی مدد یا شرکت کے بغیر خود ہی پیدا کی۔ان حالات میں مسیحی علما سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ تخلیق کائنات کے ضمن میں خدا جو کچھ کر رہا تھا کیا مصیح اور روح القدس دونوں خاموش مبصروں کا کر دار ادا کر رہے تھے یا پھر اس کے برعکس صورت حال یہ تھی کہ تخلیق کے عمل میں وہ دونوں بھی برابر کے شریک تھے ؟ اگر مؤخر الذکر صورت حال ان کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہے تو پھر لازماً یہ سوال پید اہوتا ہے کہ کیا ان میں سے ہر ایک اپنی انفرادی حیثیت میں کسی اور کی مدد کے بغیر تخلیق کرنے کی قدرت رکھتا تھا یا پھر یہ کہ وہ اجتماعی حیثیت میں ہی باہمی اشتراک سے ایسا کرنے پر قادر تھے ؟ اور اگر تخلیق کرنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ تینوں اپنے فرائض اور کاموں کو باہمی اشتراک سے یکجائی طور پر انجام دیں تو کیا ان میں سے ہر ایک کی شرکت مساوی حیثیت کی تھی یا تخلیق کے کام میں جو محنت درکار تھی اس میں ایک کا حصہ دوسروں کے حصہ سے زیادہ تھا؟ کیا وہ تینوں ہستیاں نوعیت اور کیفیت و کمیت کے اعتبار سے مختلف طاقتوں کی حامل تھیں؟ ہر کسی کو ماننا پڑتا ہے کہ دونوں امکانی صورتوں میں سے جس کو بھی درست مانا جائے بہر صورت و بہر حال تثلیث کا ہر اقنوم اپنی اکیلی حیثیت میں از خود کوئی چیز تخلیق کرنے کا نا اہل ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتا۔اگر اس استدلال کو پھیلا کر دوسرے خدائی کاموں پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے تو پھر یہی سوال بار بار آڑے آکر عیسائی علما کے لئے وبال جان بنا رہے گا۔انجام کار دنیائے عیسائیت کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایسے واحد خدا پر ایمان نہیں رکھتی جس کے اقتدار اعلیٰ، مرکزی قوت و جبروت اور عظمت و جلال کے تین مظہر ہیں بلکہ عیسائیت خدا کی ہستی کو مکمل کرنے والے تین علیحدہ علیحدہ اجزائے ترکیبی پر ایمان رکھتی ہے جو اس کے جسم یا ہستی