مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 63
63 روح القدس کا عمل و کردار لئے کہ جدا گانہ شخصی خیالات و اوصاف والی ہستیوں کے برائے نام ادغام کا خیالی منظر نامہ متذ کرہ بالا واحد ولا شریک ہستی کے منظر نامہ سے یکسر مختلف و متغائر ہے۔مختلف ہستیوں کے فرضی ادغام والے خیالی منظر نامہ کے نتیجہ میں ایک ایسے خدا کا تصوراتی ہیولا ابھرتا ہے جس کو سمجھنا اور جس پر ایمانالا نانوع انسان کے لئے بے حد مشکل اور وقت طلب ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں بہت سے انسان زمانہ دراز تک اس مسیحی عقیدہ پر کوئی اعتراض کیے بغیر اس کے ساتھ بلا حیل و حجت چھٹے رہے ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ عقل و دانش اور فہم و فراست کی ایسی کھلی کھلی خلاف ورزیوں کو عمداً آنکھیں بند کر کے نہ جانے کیسے نظر انداز کیے رکھا۔روح القدس اور تخلیق کا آسمانی منصوبہ جہاں تک تخلیق کے خدائی منصوبہ اور اس ضمن میں یسوع مسیح کی تخلیق و پیدائش کا تعلق ہے ہمیں اس میں روح القدس کا کوئی عمل دخل نظر نہیں آتا۔خود توریت میں لکھا ہے: ”خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔“ ( پیدائش باب 1 آیت 1) ظاہر ہے عہد نامہ قدیم میں مسیح یا روح القدس کی طرف کوئی اشارہ کیے بغیر خالق کے طور پر صرف ”باپ خدا “ کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔مسیح سے قبل کے پورے زمانہ میں جتنے بھی یہودی ہو گزرے تھے انہوں نے عہد نامہ قدیم کی اس آیت کو لکھو کھہا دفعہ پڑھا یا سنا ہو گا۔ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے تخلیق کائنات کے ضمن میں مسیح یا روح القدس کا کبھی کوئی تذکرہ سنا ہو۔البتہ عہد نامہ جدید میں ایک آدھ جگہ اشاروں کنایوں میں ایک امر کا مبہم ساذ کر ملتا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ گویا تخلیق کائنات کے عمل میں میسی کا بھی کچھ دخل تھا۔چنانچہ یوحنا نے اپنی انجیل میں مسیح کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کلام “ 3 کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ اناجیل اربعہ کے چار الگ الگ مصنفین میں سے صرف ایک مصنف نے اپنی رقم کر دہ انجیل میں ایسے اہم موضوع کو چھیڑا ہے اور غالباً اسے چھیڑا بھی ہے یوحنا نامی کسی ایسے شخص نے جو مسیح کا شاگر د (حواری) ہی نہ تھا۔اگر اس شخص کے اختیار کردہ لفظ ”کلام “کو خدا کا کلام تسلیم کیا جائے تو بھی اس سے مراد خدا کی مرضی ہی لی جائے گی کیونکہ یہ ایک ایسا تصور یا نظریہ ہے جو تخلیق کائنات کے ضمن میں بہت سے مذاہب میں قدر مشترک کے طور پر پایا جاتا ہے۔ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔(انجیل یوحنابات 1 آیت 1)