مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 65
65 روح القدس کا عمل و کردار کے تین حصوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔خدا کی ہستی کی ایسی تقسیم و تفریق کی صورت میں اجزائے ترکیبی کے با ہم مساوی یا غیر مساوی ہونے کا معاملہ نسبتاً کم تر درجہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔سر بسته راز یا مهمل و متناقض اچنبه ایک انسان کے لئے یہ بات قابل قبول ہوتی ہے کہ جس چیز یا امر کے ناقابل تردید شواہد موجود ہوں وہ اس کی گنہ و کیفیت کو جانے اور پوری طرح سمجھے بغیر اسے حتمی اور یقینی قرار دے دے۔ناقابل تردید شواہد کی موجودگی میں اس کے لئے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ اس چیز کا محض اس لئے انکار کر دے کہ اس کی کنه و کیفیت اور اصل حقیقت اس کی سمجھ یا ادراک سے بالا ہے۔مثال کے طور پر لوگ قدرت کے ان مظاہر کی گنہ و کیفیت سے آگاہ نہیں ہوتے جو باہم مل کر ریڈیو ٹرانسمیشن (یعنی ریڈیائی پیغامات کی غیر مرئی ترسیل) اور ان پیغامات کو وصول کرنے والے آلات کو معرض وجود میں لانے کا موجب بنتے ہیں۔یہ پیچیدہ و نازک آلات ریڈیائی لہروں میں محفوظ آوازوں اور مناظر کو دور دور تک پہنچانے والی کائناتی نبضوں اور دھڑکنوں کو کنٹرول کر کے ان میں محفوظ آوازوں اور مناظر کو ایسی کیفیت سے ہمکنار کر دکھاتے ہیں کہ انہیں ٹیلی کاسٹ کرنا یعنی گرہ ارض کے گرد دور دور تک ٹیلی ویژن سیٹس (Television Sets) میں منتقل کر کے انہیں سنا اور دیکھا بھی جاسکتا ہے۔کائناتی لہروں کو کنٹرول کرنے اور ان سے کام لینے کے اس پورے نظام کے حقائق سے نابلد ہونے کے باوجود چٹے ان پڑھ لوگوں کو بھی انہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے اور اس لئے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی صورت میں ان غیر مرئی حقائق کے ناقابل تردید شواہد ہمہ وقت ان کے سامنے موجود ہوتے ہیں۔اسی طرح ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کمپیوٹرز کس طرح کام کرتے ہیں۔اس کے باوجود عصر حاضر میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو محض اپنے عدم علم کی بنا پر کمپیوٹروں کے نظام کی موجودگی کا انکار کرنے کی جرات کر سکیں۔ایسے امور یا معاملات کو سربستہ رازوں سے تو تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی موجودگی سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔اسی طرح جو لوگ عدم علم کی وجہ سے ایسے سربستہ رازوں پر یقین نہیں رکھتے انہیں بے عقل سمجھنے یا ان کا تمسخر اڑانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ہم اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسی نوعیت کے بہت سے رازوں کے متعلق جو مذہبی عقائد کی شکل میں موجود ہوتے ہیں حلیمی اور بردباری کا رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور کیا بھی جاتا ہے۔بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں جو اس نوعیت کے عقائد پر