مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 46
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 46 آزاد شخصیت کو آخری سانس تک برقرار رکھا اور وہ شخصیت اپنی اکیلی ذات میں ایسی تھی کہ وہ سوچ بھی سکتی تھی اور محسوس بھی کر سکتی تھی۔جب اس انسانی جسم سے جس میں ابن اللہ کی حیثیت سے خدا سمایا ہوا تھا خدا کی روح نے اپنا رشتہ منقطع کیا تو مرا کون؟ اگر روح کے رخصت ہونے کے بعد یہ انسانی جسم ہی تھا جس پر موت وارد ہوئی تو پھر سوچنا اور غور کرنا چاہیے کہ جب خدا کی روح اس میں دوبارہ واپس آئی تو وہ کون تھا جو مردوں میں سے جی اٹھا؟ ظاہر ہے کہ انسانی جسم ہی دوبارہ زندہ ہوا۔یہ صورت حال ہمیں باور کراتی ہے کہ صلیب پر خدا کے بیٹے نے دکھ نہیں اٹھایا۔یہ ”انسان مسیح “ ہی تھا جو صلیب پر دکھ جھیل رہا تھا اور انتہائی تکلیف کی حالت میں ”انسان مسیح“ کا مادی جسم ہی بے اختیار پکار اٹھا تھا کہ اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اس کے بالمقابل ابن اللہ ہونے کی حیثیت سے ”خدا مسیح عمال لا تعلقی اور سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”انسان مسیح کی تکلیف اور اذیت کا نظارہ کرتا رہا۔ایسی صورت میں اس دعوی کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے کہ نوع انسانی کے دکھوں کے ازالہ کے لئے ”انسان مسیح نے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے نے خود دکھ اٹھایا۔دوسری امکانی صورت یہ ہے کہ ہم یہ فرض کریں کہ یہ ” ابن اللہ صحیح “ ہی تھا جو صلیب پر چلا اٹھا تھا جبکہ اس کی ذات میں موجود ”انسان صحیح غالباً نئی زندگی شروع کرنے کی امید میں سب کچھ وقوع پذیر ہوتا دیکھ رہا تھا اور دیکھ بھی رہا تھا اس موہوم توقع اور مذبذب احساس کے زیر اثر کہ ”ابن اللہ مسیح کی قربانی کے ساتھ ساتھ خود اسے ( یعنی ”انسان مسیح کو بھی خواہ وہ اسے پسند کرے یا نہ کرے اپنے باہم دگر ایک ساتھ زندگی بسر کرنے والے معصوم و بے خطا ساتھی کو قربان گاہ پر ذبح کر دیا جائے گا۔غالباً یہ ایک اور سربستہ راز ہے کہ عدل کا وہ کون سا مفہوم تھا جس نے خدا کو دو پرندوں کا ایک ہی پتھر سے شکار کرنے پر ابھارا؟ اگر یہ سب ماجرا خدا کے بیٹے کے ساتھ گزرا ( اور جملہ عیسائی فرقوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ سب بیتی خدا کے بیٹے پر ہی تھی تو پھر پہلے سوال کے جواب میں ہی سے دوسراسوال یہ ابھرتا ہے کہ متی باب 26 آیات 39 تا 42 کی رو سے مسیح صلیب پر ہم کلامی کے وقت کس سے مخاطب تھا؟ اس ضمن میں دو ہی امکانی صورتیں ہو سکتی ہیں۔پہلی صورت یہ ہے کہ مسیح اس وقت ”باپ خدا“ سے ہم کلام تھا اور اس سے شکوہ کر رہا تھا کہ عین ضرورت کے وقت میں اسے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔اندریں صورت یہ باور کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ باپ اور بیٹا دو علیحدہ علیحدہ وجو د تھے جو باہم کسی ایک وجود میں مدغم ہو کر ایک ایسے وجود واحد کے طور پر موجود نہیں ہو سکتے تھے کہ وہ جملہ صفات میں برابر کے شریک ہوں اور ساتھ کے ساتھ ان صفات کو