مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 47
47 گناہ اور کفارہ بروئے کار لانے میں بھی ان کا برابر کا حصہ ہو۔ان میں سے ایک مختار کل نظر آتا ہے جسے ثالث و حکم کے طور پر آخری اور حتمی فیصلے کرنے اور انہیں عملاً نافذ کرنے کی پوری قدرت حاصل ہے۔دوسر ا بے چارہ ہے تو اس کا بیٹا ( یعنی ابن اللہ ) لیکن اس غریب کو خواہ عارضی طور پر ہی سہی غلبہ کے آئینہ دار ان تمام قادرانہ اوصاف سے محروم کر دیا گیا ہے جو اس کے باپ کو بلا توقف حاصل ہیں۔جس مرکزی نکتہ پر نظر اور توجہ کو بہر طور مر تکز رکھنا ضروری ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ ”باپ “ اور ” بیٹے کی باہم متخالف و متقابل خواہشات اور تمنائیں کسی اور معاملہ میں ایک دوسرے سے اس درجہ متصادم دکھائی نہیں دیتیں جتنی کہ ڈرامہ صلیب کے آخری سین (اختتامی منظر ) میں ان کا باہمی ٹکراؤ اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔دوسری امکانی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مسیح ابن اللہ ہونے کی حیثیت سے خود اپنے آپ سے ہم کلام تھا اور خود کردہ راچہ علاج کے باوجود خود اپنے آپ سے ہی شکوہ سنجی میں مصروف تھا۔ایسی صورت میں یہ اشکال سامنے آئے بغیر نہیں رہے گا کہ اگر وہ ”دو ہونے کے باوجود ایک “ (یعنی دو میں ایک تھے اور ساتھ ہی ” ایک ہونے کے باوجود دو ( یعنی ایک میں دو) بھی تھے تو کیا یہ ایک دوسرے سے ممیز و ممتاز شخصیتیں رکھنے والے وجو د اپنے اپنے ذاتی خیالات، ذاتی اقدار اور ذاتی اوصاف رکھتے ہوئے درد بھی محسوس کرتے تھے اور اذیتیں بھی جھیلتے تھے۔اس کی رو سے ایک اور سوال ماہرین دینیات کے مابین طویل بحث و مباحثہ کا موضوع بنے بغیر نہ رہے گا اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ خداد کھ اٹھائے ، درد کی تکلیف برداشت کرے اور سزا بھی بھگتے۔اور اگر ایسا ممکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ صرف نصف خدا یہ سب کچھ بھگتے گا جبکہ دوسر ا نصف خدا اپنی وضع فطرت یا اپنی منفر د خاصیت کے زیر اثر ایسا کرنے سے مبرا یعنی بری الذمہ ہو گا۔جب ہم اس تہہ در تہہ اور پیچ در پیچ الجھی ہوئی فلاسفی کے گہرے ہوتے ہوئے وسعت پزیر سایوں کی دنیا میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو بچی کچھی روشنی بھی مدھم سے مدھم ہوتی چلی جاتی ہے اور پراگندگی کے انبار پر انبار لگتے چلے جاتے ہیں۔مزید بر آں اس ضمن میں کہ اگر مسیح خود خدا تھا تو وہ صلیب پر ہم کلامی کے وقت کس سے مخاطب تھا ایک اور اشکال کا پیدا ہونا بھی ناگزیر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ جب اس نے باپ کو مخاطب کیا تو وہ خدا کا اٹوٹ انگ یا بالفاظ دیگر اس کے وجود کا غیر منفک جزو تھا اور جزو بھی ایسا کہ جس کی بنا پر اسے خود بھی خدا کا درجہ حاصل تھا تو طبعاً سوال یہ پیدا ہو گا کہ وہ کہہ کیا رہا تھا اور کہہ کس سے رہا تھا؟ اس سوال کا جواب محض پہلے سے موجود عقیدہ کا سہارا لئے بغیر عقل و شعور اور فطری طور پر آزاد ضمیر کی روشنی