مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 45

45 گناہ اور کفارہ اس وقت مسیح ان (یعنی شاگردوں) کے ساتھ گتسمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا یہیں بیٹھے رہنا جب تک میں وہاں جاکر دعا کروں اور پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر غمگین اور بے قرار ہونے لگا۔اس وقت اس نے ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔پھر ذرا آگے بڑھا اور منہ کے بل پر گر کر یوں دعا کی کہ اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے۔تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔پھر شاگردوں کے پاس آکر ان کو سوتے پایا اور پطرس سے کہا کیا تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے ؟ جاگو اور دعا کرو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو۔روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے۔پھر دوبارہ اس نے جا کر یوں دعا کی کہ اے میرے باپ! اگر یہ میرے پئے بغیر نہیں مل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو۔اور آکر انہیں پھر سوتے پایا کیونکہ ان کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں۔اور ان کو چھوڑ کر پھر چلا گیا اور پھر وہی بات کہہ کر تیسری بار دعا کی۔“2 جیسے جیسے یہ عیسائی داستان آگے بڑھتی ہے تو وائے افسوس کہ نہ ہی مسیح اور نہ ہی اس کے حواریوں کی دعائیں خدا اور باپ کے ہاں قبولیت پاتی ہیں اور زبر دستی با وجود شدید احتجاج کے آخر کار اس لیے صلیب پر چڑھا دیا جاتا ہے کہ یہ وہی انسان تھا ؟ وہی مصومیت کا شہزادہ قربانی کی علامت جس نے رضا کارانہ طور پر بنی نوع انسان کے بوجھ کو اٹھانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا یا پھر یہ کوئی اور انسان تھا؟ آپ کارویہ صلیب کے وقت اور اس کے دوران ہی آپ کی شخصیت اور آپ کی ذات کے گرد گھڑی گئی کہانی میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔اب ہم اس تنقیدی جائزے کی طرف لوٹتے ہیں۔پھر صلیب پر لٹکی ہوئی حالت میں مسیح کی زبان سے غم میں ڈوبی ہوئی جو آخری چیخ ( یعنی اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا) نکلی اس کے متعلق کئی سوال ذہن میں ابھرتے ہیں۔پہلا اور بنیادی سوال تو یہی ہے کہ وہ انتہائی غم ناک اور درد انگیز الفاظ کس نے کہے تھے ؟ مراد یہ ہے ان الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کرنے والا ”انسان مسیح “ تھا یا ابن اللہ کی حیثیت سے ”خدا مسیح نے یہ الفاظ کہے تھے ؟ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کسے چھوڑ دیا گیا؟ کس نے چھوڑا؟ اور چھوڑا تو کیوں چھوڑا؟ اگر یہ الفاظ ”انسان صحیح “ نے کہے تھے تو پھر ایک طے شدہ امر کے طور پر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ”انسان مسیح“ نے بحیثیت انسان اپنی اکیلی اور 2 ( متی باب 26 آیات 36 تا 44)