مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 27
27 گناہ اور کفارہ آدم کا گناہ ایک شخص گناہ تھ اس گناہ کا اثر اس کی ذات تک محدود تھا۔اس سے پوری نوع انسانی ہر گز متاثر نہیں ہوتی تھی۔وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہر شخص گناہ سے پاک پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ اگر چاہے تو گناہ سے پاک زندگی بسر کر سکے اور ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے گناہ سے پاک زندگی بسر کی۔اس تحریک کے تمام لوگوں کو بدعتی قرار دے کر اسے کچلنے کی پوری کوشش کی گئی۔سو گویا انہوں نے دن کو رات قرار دے کر اسے ملامت کا سزاوار ٹھہر آیا اور رات ان کے نزد یک دن قرار پا کر قابل ستائش ٹھہری۔بدعت حق قرار پائی اور حق کو بدعت کا درجہ دے دیا گیا۔گناہوں کا آئندہ نسلوں میں منتقل ہونا اب ہم اس نظریہ کا دوبارہ جائزہ لیتے ہیں کہ خدا گناہگار کو سزا دیئے بغیر معاف نہیں کرتا کیونکہ سزا دیئے بغیر معاف کرنا اس کے کانٹے کی تول پر پورا اترنے والے جذبۂ عدل کے منافی ہے۔انسان یہ دیکھ کر دل گرفتہ اور خوف زدہ ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی آرہی ہیں اور مسیحیوں نے ایک ایسی بات کو اپنا جزو ایمان بنارکھا ہے جو یقینی اور حتمی طور پر انسانی فہم و ادراک سے بالا اور انسانی ضمیر سے یکسر مخالف و متضاد ہے۔دنیا ہو یا آخرت ایسا عادل خدا کس طرح محض اس بنا پر ایک گناہگار کو بخش سکتا ہے کہ ایک بے گناہ اور معصوم انسان نے اس گناہگار کے گناہوں کی سزا کو بھگتنے کے لئے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر پیش کر دیا ہے۔جو نہی خدا ایسی رضا کارانہ پیشکش کو قبول کر کے اس بے گناہ و معصوم انسان کو سزا دینے پر آمادہ ہو گا وہ خود انصاف کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنے والا بن جائے گا۔یہ ایک عام فہم بات ہے اور ہے بھی عین قرین انصاف کہ ایک گناہ گار کو ہی اس کے اپنے گناہوں کی سزاملنی چاہیے اور سزا خود گنہگار کو بھگتنی چاہیے نہ کہ اس کی بجائے ایک بے گناہ اور معصوم کو۔اگر سزا کو گنہگار کی بجائے کسی بے گناہ کی طرف منتقل کر دیا جائے تو بے شمار پیچیدہ مسائل اور الجھنیں اٹھ کھڑی ہوں گی۔مسیحی دینیات کے ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ سزا کی اس منتقلی سے انصاف کے کسی اصول کی خلاف ورزی اس لئے لازم نہیں آتی کہ بے گناہ انسان پر کسی گنہ گار شخص کی سز از بردستی ٹھونسی نہیں جارہی ہے بلکہ وہ معصوم رضا کارانہ طور پر از خود اسے قبول کر رہا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔اس کی مثالیں دنیا میں بھی عام دیکھنے میں آتی ہوں۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص پر اتنا قرض چڑھا ہوا ہے کہ اسے ادا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے۔فلاحی کاموں میں پیش پیش رہنے والا ایک خدا ترس انسان فیصلہ کرتا ہے کہ وہ