مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 26

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 26 ہمارے آبا و اجداد کے گناہوں کی پاداش میں ہمیں مسلسل سزا ملتے چلے جانا ایک قابل اعتراض بات ہے لیکن کسی کو اس کے آباو اجداد کی غلطیوں کی وجہ سے اس مجبوری میں مبتلا کرنا کہ وہ مسلسل گناہوں کا ار تکاب کرتا چلا جائے محض قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ بدیہی طور پر نا قابلِ نفرین بھی ہے۔ہمیں انسانی تجربہ کی ٹھوس حقیقوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اس لئے ضروری ہے کہ ہم روز مرہ کے تجربہ کی رو سے جرم اور سزا کی مسیحی فلاسفی کو پرکھنے کی کوشش کریں۔ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ایک مجرم کے خلاف فیصلہ سنایا جاتا ہے جو جرم کے تناسب سے کہیں بڑھ کر سختی اور شدت کا حامل ہے۔ہر سمجھدار انسان ایسی حد سے بڑھی ہوئی سراسر غیر متوازن سزا کی مذمت کرے گا۔اس واضح حقیقت کے پیش نظر ہمارے لئے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ آدم کو جو سزاملی وہ ایک منصف خدا کی طرف سے دی گئی تھی۔یہ تو ایک ایسی غیر محدود سزا تھی جو خدائی طرز عمل کے مسیحی تفہیم کے مطابق آدم اور حوا کے عرصۂ حیات سے بھی متجاوز ہو کر نسلاً بعد نسل آگے بڑھائی جاتی رہی یہاں تک کہ ابد الآباد تک پیدا ہونے والی تمام نسلوں پر محیط کر دی گئی۔آباو اجداد کے گناہوں کی سزا بھگتے پر آنے والی نسلوں کو بھی مجبور کر نا عدل کی خلاف ورزی کو عدل کی آخری اور انتہائی حدود سے بھی ماورا ممتد کرتے چلے جانے کے مترادف ہے۔ہم عدل کی ایسی بے مثال خلاف ورزی سے زیادہ اس کے نتیجہ میں رونما ہونے والی بد قسمتی کی آئینہ دار صورت حال کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔اس صورت حال کو ذہن میں مستحضر رکھتے ہوئے ذرا تصور میں لائیے کہ موجودہ زمانہ کا ایک حج فیصلہ سناتا ہے کہ مجرم کے علاوہ اس کے بیٹوں، پوتوں پڑ پوتوں اور علی ہذا القیاس ان کے بعد آنے والی نسلوں کے تمام مردوں اور عورتوں کو از روئے قانون اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ تا ابد گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کرتے اور اس کی سزائیں بھگتے چلے جائیں۔تو سوچئے ہم عصر معاشرہ جو تہذیب و تمدن میں ترقی کے طفیل عدل و انصاف کے ایک عالمگیر تصور اور اس کے بھر پور شعور سے بہرہ ور ہو چکا ہے ایسے فیصلہ کے خلاف کس رد عمل کا اظہار کرے گا؟ قاری کو یہاں باور کروانا ضروری ہے کہ ورثہ میں گناہ کا ملنا پولوس کی گھڑت ہے۔اس کو عہد نامہ قدیم کے ساتھ جوڑا نہیں جاسکتا کیونکہ اس تصور کے برعکس بہت سارا مواد عہد نامہ قدیم میں موجود ہے۔پانچویں صدی عیسوی میں ہیپو (Hippo) کے بشپ آگسٹائن (Augustine) اور بلیکئن تحریک (Pelagian Movement) کے مابین زبر دست تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔آگسٹائن نے اس تحریک کو ایک بدعتی تحریک قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی۔اس تحریک کے بانی اور اس کے پیروؤں کا کہنا یہ تھا کہ