مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 28

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 28 اس کا تمام قرضہ ادا کر کے اسے قرض کے بوجھ سے نجات دلا دے۔اب بتائیے اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟ ہمارا جواب یہ ہے کہ اگر بات اتنی ہی ہو تو ہم ہمدردی، فراخدلی اور سخاوت کے ایسے کام کی یقیناً داد دیں گے۔لیکن اگر ایک آدمی آپ کے سامنے یہ سوال کرتا ہے کہ کسی شخص نے لاکھوں کروڑوں پاؤنڈ کا قرضہ ادا کرنا ہے اور وہ سرے سے اس قابل نہیں ہے کہ اس کی ادائیگی کر سکے۔فلاحی کام کرنے والے ایک صاحب تشریف لاتے ہیں اور کمال ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک بینی کا سکہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ از راہ مہربانی پیش کی جانے والی اس پینی کے عوض اس مقروض کو اس کے بھاری بھر کم قرضہ کی ادائیگی سے بری الذمہ قرار دیا جائے۔اپنے مذکورہ بالا جواب کی روشنی میں اب فرمائیے اس پیشکش پر آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ اگر دیکھا جائے تو مسیح کا تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کی مجموعی سزا کو بھگتنے کے لئے اپنے اکیلے وجود کو پیش کرنا کروڑوں پاؤنڈ کا قرضہ بے باق کرنے کے لئے محض ایک پینی پیش کرنے سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔کہاں تمام کے تمام بنی نوع انسان کے بے حد و بے حساب گناہوں کا کفارہ اور کہاں ان سب کے عوض ایک اکیلے انسان یعنی تن تنہا فرد واحد کا اپنی جان کا نذرانہ ! فلک بوس و ہیبت ناک سلسلہ ہائے کوہ اور رائی کے ایک ننھے سے دانہ کے درمیان کبھی کسی تناسب و توازن کا سوال پیدا ہو سکتا ہے؟ یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہاں کسی مقروض یا ایک نسل کے مقروضوں کی بات نہیں ہو رہی بلکہ بات ہو رہی ہے ان کھرب باکھرب، پدم با پدم قرضہ نادہندگان کی جو ابتدائے آفرینش سے پیدا ہو ہو کر راہی ملک عدم ہوتے چلے جارہے ہیں اور پھر بات ہو رہی ہے ان نادہندگان کی جنہوں نے ابھی قیامت تک پیدا ہونا اور ہوتے چلے جانا ہے۔کوئی اندازہ لگا سکتا ہے اللہ کی اس مخلوق نا پیدا کنار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ در پیش مسئلہ اپنی بے انداز گہرائی و گیرائی کی وجہ سے ایسا نہیں ہے کہ جس پر ایک نادار د نادہند مقروض اور ایثار کا مظاہرہ کرنے والے ایک ہمدرد مالدار کی بے حیثیت مثال صادق آسکے۔جرم و سزا کے زیر غور معاملہ میں مسیحی عالموں کا ایک ایسے نادار مقروض کی مثال پیش کرنا جو قرضہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہے بہت سادہ لوحی کا مظاہرہ کرنے کے مترادف ہے۔سادگی کی آئینہ دار ایسی بے جوڑ مثال شاید ہی پہلے کبھی پیش کی گئی ہو۔جس صورت حال کا یا منظر نامہ کی ایک بے جوڑ مثال کے ذریعہ وضاحت کی گئی ہے وہ اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم جرم و سزا کے بعض دوسرے پہلوؤں کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے ابھی اپنی توجہ کو مزید کچھ وقت نادہند مقروض والی مثال پر مرکوز رکھیں۔