مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 39

39 گناہ اور کفارہ انسانی ضمیر میں صرف خلش ہی پیدا نہیں کرتی بلکہ ”باپ “ اور ”بیٹے“ کے کردار میں پائے جانے والے تضاد کے سوال کو ابھار کر ایک دفعہ پھر اسے بڑی شدت سے نمایاں کر دیتی ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ مسیح ”باپ خدا کا صحیح نقش نہ ہونے کی وجہ سے اس کا ناخلف بیٹا ہے۔شاید یہ بھی توارثی غلطی کا ہی ایک شاخسانہ ہو !۔اس بارہ میں تحقیق کا ایک اور میدان بھی ہے۔اس کا تعلق اس امر سے ہے کہ گناہ اور اس کے نتائج و عواقب کے بارہ میں دنیا کے دوسرے مذاہب کا نقطۂ نظر اور رویہ کیا ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ صرف مسیحیت ہی ایسا مذہب نہیں ہے جو انسانوں کو من جانب اللہ عطا ہوا ہو۔دنیا میں بلحاظ تعداد غیر مسیحی اقوام و افراد مسیحیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔معلومہ تاریخ کے ہزاروں سال کے دوران یسوع مسیح کی آمد سے قبل و قتا بعد وقت متعدد مذاہب رو نما ہوئے۔ان مذاہب نے دنیا کے مختلف علاقوں میں آباد انسانوں میں جڑ پکڑی اور نشو و نما پائی۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا ان مذاہب نے بھی کبھی گناہوں کی بخشش یا معافی کی ایسی فلاسفی کو اپنا یا یا اس کا ذکر کیا جس کا کفارہ کے مسیحی عقیدہ سے دور کا بھی کوئی تعلق بنتا ہو۔خدا کے متعلق یا اگر وہ کئی خداؤں کی موجودگی پر یقین رکھتے تھے تو اپنے ان مزعومہ خداؤں کے متعلق ان کا کیا نظریہ یا تصور تھا۔مراد یہ کہ ان کے نظریہ کے مطابق گناہوں میں ملوث نوع انسانی کے بارہ میں خدا یا ان کے مزعومہ خداؤں کا طرز عمل یا سلوک کس نوعیت کا تھا؟ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے مذاہب عالم کی برادری میں جو مذہب نظریاتی لحاظ سے مروجہ مسیحیت کے قریب ترین نظر آتا ہے وہ شاید ہندومت ہے لیکن اس کی یہ قربت بھی محض جزوی ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ہندو بھی ایک کٹر اور ضدی قسم کے عادل خدا کو مانتے ہیں۔اس کا جذبہ عدل یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو فرد بھی گناہ کا مرتکب ہوا سے وہ کسی نہ کسی شکل میں کوئی نہ کوئی سزا ضرور دے لیکن مسیحیت اور ہندو منت کے مابین پائی جانے والی یہ نظریاتی مماثلت آگے نہیں چلتی بلکہ یہیں ختم ہو جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندومت میں اس امر کا دور دور کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا کہ خدا کے بیٹے نے نسل انسانی کے تمام گناہگاروں کے گناہوں کے جملہ اثرات اور سزاؤں کا سارے کا سارا بار اپنے کندھوں پر اٹھا لیا ہو۔بر خلاف اس کے ہندومت میں بتایا یہ جاتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے سبب سنسار میں جرم و سزا کا ایک لامتناہی اور نا پید اکنار سلسلہ جاری وساری ہے۔اس کے نتیجہ میں انسانی روحیں مختلف جانوروں اور حشرات الارض کے روپ میں جو نہیں بدلتی چلی آرہی ہیں۔کفارہ تک رسائی صرف اس وقت ہوتی ہے جب بار بار جو نیں