مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 38
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 38 خداہی کی عطا کردہ تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”مقدس بیٹے نے باپ کی دی ہو ئی تعلیم سے غایت درجہ مختلف و متضاد روش کیوں اختیار کی؟ کیا ایسے مخاصمانہ اختلاف کو توارثی نقص سمجھا جائے یا یہ کہ اسے ارتقائی تبدیلی سے تعبیر کیا جائے یا پھر یہ کہ مکمل معافی اور در گزر کے مسیحی رجحان کو (جو انتقام پر یہودیت کے حتمی اصرار سے یکسر متضاد ہے) ”باپ خدا کی روش اور طرز عمل میں بنیادی تبدیلی پر محمول کیا جائے ؟ معلوم ایسا ہو تا ہے کہ اس نے ( یعنی ”باپ خدا“ نے) موسیٰ کو اور اس کے ذریعہ اہل کتاب کو جو تعلیم دی تھی اس پر وہ دل سے متاسف تھا اور اپنی غلطی کی بہر طور تلافی کرنا چاہتا تھا اسی لئے ” بیٹے“ نے اس سے یکسر مختلف و متضاد تعلیم دے کر تلافی کی صورت پیدا کی۔یہودیت اور مسیحیت کی تعلیم میں سزا کی نوعیت پر زور دینے سے متعلق متذکرہ بالا تبدیلی اور اختلاف میں ہم مسلمانوں کو کوئی تضاد اس لئے محسوس نہیں ہو تا کہ ہم ایسے خدا پر ایمان رکھتے ہیں کہ جس کے وجود میں عدل اور مغفرت (یعنی بخشش و معافی) کی ہر دو صفات پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہیں اور یہ دونوں صفات باطنی طور پر باہم کسی لحاظ سے بھی متصادم نہیں ہیں۔ہمارے ایمان وایقان اور تفہیم و ادراک کی رو سے یہودی تعلیم اور مسیحی تعلیم میں پائے جانے والے فرق کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہودی تعلیم ناقص تھی اور مسیح نے آکر اس نقص کو دور کیا بلکہ نقص اس تعلیم پر یہودیوں کے عمل پیرا ہونے کے طریق میں تھا۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خدا صرف عادل و منصف ہی نہیں ہے بلکہ وہ غفور در حیم اور رؤف و محسن بھی ہے یعنی وہ اپنے بندوں کو اگر چاہے تو معاف کر کے انہیں اپنے رحم کا مورد بھی بناتا ہے اور ان کے ساتھ حسن و احسان کا سلوک بھی کرتا ہے۔گناہوں کو بخشنے اور گناہگاروں کو اپنی بخشش سے نوازنے کے لئے وہ کسی بھی نوعیت کی بیرونی مدد کی احتیاج سے پاک ہے۔برخلاف اس کے اگر مسیحی نقطۂ نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ پیچ در پیچ کی شکل اختیار کر کے الجھتا ہی چلا جاتا ہے۔نظریہ آتا ہے کہ توریت کے خدا کو صرف عدل سے ہی سروکار تھا اور وہ اس احساس سے عاری تھا کہ ترس کھانا اور رحم کا سلوک کرنا بھی کوئی صفت ہوتی ہے۔بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی پر رحم کرنا بھی چاہتا تو ایسا کر نہیں سکتا تھا کیونکہ ترس کھانا اور رحم کرنا اس کے بس میں ہی نہ تھا۔آخر زمانہ دراز اور مدت مدید کے بعد عجیب ماجرا ہوا۔ہوا یہ کہ اس کا ”بیٹا“ جو خود اپنی ذات میں خدا تھا اس کی مدد کو آیا۔جس جہنم آسا مشکل اور الجھن میں ”باپ خدا “پھنسا ہوا تھا اس میں سے ”بیٹے خدا نے اسے نکالا۔معلوم یہ ہو تا ہے کہ اپنے منتقم ”باپ“ کے مقابلہ میں ”بیٹا سراسر ترس اور ترحم کے جذبہ سے بھرا ہوا تھا۔” بیٹے“ کے متعلق اس تصور کی نامعقولیت