مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 40
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 40 بدلنے کے بعد روح اتنی سزا بھگت لیتی ہے جو ان تمام گناہوں کے مجموعہ کے عین مطابق ہوتی ہے جو جو نوں کی مسلسل تبدیلیوں کے تباہ کن تجربہ کے دوران اس سے سرزد ہوئے ہوتے ہیں۔یقیناً بہت سے لوگوں کو جرم و سزا کی یہ عجیب و غریب فلاسفی بھی یکسر نا قابل فہم پر اسراری کے باوجود اس انوکھی فلاسفی میں جبلی انصاف کی جھلک ضرور موجود ہے۔اس میں ایسے توازن اور یکسانیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جو گھڑے جبلی انصاف کے تصور سے پوری پوری مطابقت رکھتی ہے۔ہندومت ہی نہیں بعض دوسرے مذاہب بھی علت و معلول کی تمام تر پیچیدگیوں کے باوصف مختلف جونیوں کی شکل میں بار بار پیدائش کے لامتناہی سلسلہ کے قائل ہیں۔ان مذاہب سے صرف نظر کرتے ہوئے اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کے تمام دوسرے چھوٹے بڑے مذاہب کے نزدیک انسانوں کی طرف سے ارتکاب معاصی کی صورت میں من جانب اللہ بخشش یا معافی کے تصور کا کیا عمل دخل ہے۔ہندومت اور اس کی طرح کے دوسرے مذاہب سمیت دیگر چھوٹے بڑے مذاہب کے ایک ارب سے زیادہ پیر و دنیا میں پائے جاتے ہیں۔وہ سب کفارہ کے دیو مالائی مسیحی تصور سے یکسر نا آشنا ہیں۔ان کے ہاں اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔یہ صورت حال انسانی ذہن کو بہت خلجان میں مبتلا کرنے والی ہے۔اندریں صورت اس سوال کا پید اہو ناناگزیر ہے کہ دنیائے عیسائیت کے ماسوا دنیا کے دیگر علاقوں میں جولوگ آباد چلے آرہے تھے ان کے اور عالم بالا کے مابین رابطہ کی نوعیت کیا تھی؟ اگر مسیحی عقیدہ کے بموجب ”باپ خدا“ سے ان کا تعلق نہیں تھا تو کیا یسوع مسیح کے سواد نیا کی ساری مذہبی قیادت شیطان کی شاگردی کے جال میں پھنسی ہوئی تھی ؟ ”باپ خدا “ کہاں تھا اور کیا کر رہا تھا؟ جب بقیہ نوع انسانی کو شیطان اس کے نام پر گمراہ کرنے میں مصروف تھا تو وہ بنی نوع انسان کو اس کے دام تزویر سے نجات دلانے کی غرض سے ان کی مدد کو کیوں نہ آیا؟ کیا ماسوا مسیحیوں کے قبل ازیں تمام دیگر بنی نوع انسان نام نہاد ”باپ خدا“ کے علاوہ کسی اور ہستی کے پیدا کر دہ تھے ؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ سوتیلے باپ والا سلوک روار کھ کر انہیں طاغوت کے ظالمانہ اقتدار کے حوالے کیوں کیا گیا؟۔آئیے اب ہم اپنی توجہ کو ایک اور نقطہ نگاہ سے اس مسئلہ کی طرف پھیرتے ہیں اور نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ ہم عام انسانی تجربہ کی روشنی میں اس مسئلہ کا از سر نو جائزہ لینے کی کوشش کریں۔اب یہ تجربہ اور مشاہدہ میں آنے والی ایک عام بات ہے کہ معافی اور عدل با ہم متوازن بھی ہو سکتے ہیں اور یہ کہ ان کا ایک ساتھ بروئے کار