مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 74
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 74 جانے کا واقعہ پیش نہ آگیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسیح کو دائمی طور پر آسمان کی طرف اٹھالیا گیا تھا تو کیا بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں پہلے ہی آسمان کی طرف اٹھائی جا چکی تھیں؟ عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر سے مردہ حالت میں اتارے جانے کے بعد تین دن اور تین راتیں گزارنے پر اس کی روح اس کے جسم میں واپس آئی اور پھر وہ بادلوں میں چڑھتا ہوا نظر آیا اور اس طرح آسمان کے نہاں خانوں میں واپس لوٹ کر غائب ہو گیا۔تا کہ بالآخر اپنے باپ کے تخت تک پہنچ کر دائمی طور پر اس کے دائیں ہاتھ جاکر براجمان ہو۔اگر یہ بات صحیح ہے تو ہم یقینا بہت ہی پیچیدہ نوعیت کی دوہری مشکل میں پھنسے بغیر نہ رہیں گے۔ہمیں دو موقفوں میں سے ایک موقف یا بالفاظ دیگر پیش آمدہ حالات کی دو صورتوں میں سے ایک صورت کا انتخاب کرنا ہو گا۔ایک صورت حال تو وہ ہے جو خود صحیح نے اختیار کی۔دوسری صورت حال وہ ہے جسے اس کے پیروؤں یا ماننے والوں نے اختیار کیا اور اپنایا۔احوال و واقعات کی دونوں صورتیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہیں کہ کیسا ہی مفاہمانہ انداز کیوں نہ اختیار کیا جائے دونوں میں مطابقت کی کوئی راہ نکل ہی نہیں سکتی۔اگر ہم دونوں صورت ہائے احوال میں سے ایک کو اختیار کرتے ہیں تو دوسری صورت کی نفی لازم آئے بغیر نہیں رہتی۔اگر مسیح اپنے وعدہ میں سچا تھا اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ یقینا سچا تھا تو پھر آسمان پر چڑھنے سے پہلے اسے اپنے وعدہ کا پاس کرنا چاہیے تھا۔اسے اپنے باپ خدا سے مزید وقت طلب کرنا چاہیے تھا تا کہ وہ زمین پر اتناطویل عرصہ مزید گزار سکے کہ وہ ان ممالک میں جاسکے جہاں بنی اسرائیل کے بعض قبائل قبل ازیں جا کر آباد ہو گئے تھے۔وہ اپنے وعدہ کو توڑے اور اعتماد کو خاک میں ملائے بغیر اور بیک وقت مکمل خدا اور مکمل انسان ہونے کی اپنی حیثیت کو داغدار کئے اور اسے نا قابل تلافی نقصان پہنچائے بغیر آسمان پر جاہی نہیں سکتا تھا۔برخلاف اس کے اگر عیسائی علماء کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ مسیح واقعی اپنے اس عہد و پیمان کو اس نے جو اسرائیل کے گھرانے سے کیا تھا بھلا بیٹھا اور سب کچھ نسیانسیا کر کے سیدھا آسمان کی طرف روانہ ہو گیا تو ایسی صورت میں بڑے بو جھل دل اور مجرم ضمیر کے ساتھ ہمیں مسیحی علماء کو سچامانا پڑے گا۔ہماری اس مجرمانہ تائید سے مسیحی علماء تو بزعم خود کچے بن جائیں گے لیکن افسوس !صد افسوس! اندرین صورت بائبل اور مسیحیت دونوں جھوٹے ثابت ہوئے بغیر نہ رہیں گے۔وجہ ظاہر ہے۔اگر مسیح کا اپنے وعدے میں جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے تو عیسائیت کسی طور بھی صداقت پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ہم احمدی مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح خدا کا سچا نبی تھا۔وہ جھوٹا وعدہ یا جھوٹا عہد و پیمان کرہی نہیں سکتا تھا۔کھوئی ہوئی بھیڑوں سے مراد بنی اسرائیل کے وہ دس قبائل تھے جو بہت پہلے یہودیہ سے