مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 75
75 صلیب اور اس سے متعلقہ امور ہجرت کر کے دور دراز کے مشرقی خطوں میں جا آباد ہوئے تھے۔لہذا اس کے وعدہ میں یہ بات اشارۃ النص کے طور پر مضمر تھی کہ وہ صلیب پر نہیں مرے گا بلکہ اسے لمبی زندگی عطا کی جائے گی تاکہ وہ اپنے مشن اور غرض بعثت کو پورا کر سکے اور یہ کہ وہ صرف بنی اسرائیل کے ان دو قبائل کی طرف ہی نبی بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا جو خود اس کے گردونواح میں رہ رہے تھے بلکہ اسے دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے جملہ بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔مذکورہ بالا دونوں شہادتیں مجموعی طور پر بہت مثبت انداز میں اس امر کی حتمی نشان دہی کرتی ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد مسیح پر کیا گزرنا تھی اور اس کے ساتھ کیا کچھ پیش آنا تھا۔صلیب دیئے جانے کے واقعات جہاں تک مسیح کو صلیب دیئے جانے کے واقعات کا تعلق ہے ان کے ضمن میں ایک نکتہ خاص طور پر قابل غور ہے۔اس نکتہ کا تعلق اس امر سے ہے کہ پیلاطوس نے مسیح کو صلیب دینے کے لئے دن اور وقت کیا مقرر کیا۔مزید بر آں دن اور وقت مقرر کیے جانے سے قبل بعض ایسی باتیں اور امور مطالعہ میں آتے ہیں جن سے ایک انسان بآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان باتوں اور امور نے اس کے آخری فیصلہ میں اہم کردار ادا کیا ہو گا۔خود عہد نامہ جدید کی رو سے سب سے پہلی بات تو ہمارے علم میں یہ آتی ہے کہ پیلاطوس کی بیوی ایک خواب کی بناء پر جو اس نے ایک رات قبل ہی دیکھا تھا اس بات کی شدید خلاف تھی کہ اس کا شوہر مسیح کو مجرم گردان کر اس کے خلاف فیصلہ دے۔وہ اپنے اس خواب کی وجہ سے بہت خوف زدہ تھی۔اسے پورا یقین تھا کہ مسیح سراسر بے گناہ اور بے قصور ہے۔اسے اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آیا کہ وہ خواب کے پیغام کو اپنے شوہر تک پہنچانے کے لئے عدالت کی کاروائی میں مداخلت کرئے۔(متی باب 27 آیت 19)۔غالباً یہ اس کی بیوی کا فوری احتجاج ہی تھا جس کے زیر اثر اس نے ( پیلاطوس نے) مسیح کو صلیب دیئے جانے کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو علی الاعلان بری ظاہر کرناضروری سمجھا۔چنانچہ بائبل میں مذکور ہے : ”جب پیلاطوس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ الٹا بلو ا ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا میں اس راستباز کے خون سے بری الذمہ ہوں تم جانو“۔یعنی اس نے کہا اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے “ (متی باب 27 آیت 24) پیلاطوس کا ایسا کرنا اس اعتراف کے مترادف تھا کہ مسیح یقیناً بے گناہ ہے اور اسے ایسے بے گناہ کے خلاف جو فیصلہ دینا پڑا ہے وہ یہودیوں کے ناجائز دباؤ میں آکر دینا پڑا ہے۔عہد نامہ جدید سے یہ بات بالکل