مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 73

73 صلیب اور اس سے متعلقہ امور دعوے کا کوئی اور مطلب نہیں لیا ہو گا۔وہ سب اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ یونس کسی نہ کسی طرح معجزانہ طور پر مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات زندہ رہا اور اس عرصہ میں ایک لمحہ کیلئے بھی اس پر موت وارد نہیں ہوئی۔یہ صحیح ہے کہ ہم اس یہودی نظریہ کے بارہ میں اپنے تحفظات رکھتے ہیں اور اسے حرف بحرف درست تسلیم نہیں کرتے کیونکہ قرآن میں یونس نبی کا جو واقعہ بیان ہوا ہے اس میں کہیں بھی اس امر کا ذکر نہیں ہے کہ یونس نبی تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں آزمائشوں میں سے گزر تا اور دکھ جھیلتا رہا۔بہر حال اب ہم زیر غور نقطہ یا مسئلہ کی طرف لوٹتے ہیں اور ان مشابہتوں کی طرف آتے ہیں جو مسیح اور یونس کے درمیان پائی جاتی ہیں اور جن کی طرف مسیح نے اپنی پیش گوئی میں اشارہ کیا تھا۔ان مشابہتوں کے ضمن میں واضح طور پر تین دن رات نہایت تشویش انگیز اور تکلیف دہ حالات میں گزارنے اور قریب قریب موت کی سی حالت سے معجزانہ طور پر زندہ بچ نکلنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ایک دفعہ مرنے اور پھر دوبارہ جی اٹھنے کا اس میں سرے سے کوئی ذکر نہ تھا۔مسیح نے صرف یہی دعوی کیا تھا کہ اس کے اپنے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو یونس کے ساتھ ہوا تھا۔اسرائیل کے گھرانہ سے مسیح کا وعدہ یا پیمان شہادت کا دوسرا اہم جزو یہ ہے کہ مسیح نے اپنے لوگوں کو بتایا تھا کہ اسرائیل کے گھرانے کی صرف وہی بھیڑیں نہیں ہیں جو یہودیہ میں اور اس کے ارد گرد آباد ہیں اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے صرف ان بھیڑوں کیلئے ہی نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ ان دوسری بھیڑوں کی طرف بھی بھیجا گیا ہے جو یہودیہ اور اس کے آس پاس کے علاقہ میں نہیں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں آباد ہیں لیکن وہ ہیں اسی گلہ کی بھیڑیں۔جس طرح وہ ان کی (یعنی یہودیہ اور اس کے آس پاس رہنے والی بھیڑوں کی) نجات اور بحالی کیلئے آیا ہے اسی طرح وہ بنی اسرائیل کی ان دوسری بھیٹروں کے پاس بھی جائے گا اور ان کی نجات اور بحالی کے سامان بھی کرے گا۔چنانچہ انجیل میں مسیح کا یہ قول مذکور ہے: ”اور میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں۔مجھے ان کو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی۔پھر ایک ہی گلہ ہو گا اور ایک ہی چرواہا ہو گا۔“ (یوحنا باب 10 آیت 16) یہ بات ہر کسی کے علم میں ہے کہ مسیح نے اپنے اس وعدے اور واقعہ صلیب کے درمیانی عرصہ میں کسی اور علاقہ میں جانے کیلئے یہودیہ کی سر زمین کو کبھی خیر باد نہیں کہا۔وہ وہیں رہا تاوقتیکہ صلیب دیئے