مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 44

میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 44 جائے گا تو کس دلیل کی رو سے ایسا ہو گا؟ اور اگر انہیں ان کے گناہوں کی سزا دی جائے گی تو پھر یہی سوال پیدا ہو گا کہ کس منطق کی رو سے انہیں گرفت اور پکڑ کا سزاوار ٹھہرایا جائے گا؟ انہیں مسیح پر ایمان لانے اور نجات سے ہمکنار ہونے کا موقع ہی کب نصیب ہوا تھا؟ وہ تو یکسر بے بس ولا چار تھے۔یہ بہر طور کانٹے کی تول پورا اترنے والے حتمی اور بار یک در باریک انصاف کی کیسی مسخ شدہ اور مضحکہ خیز تصویر ہے! مجبوری اور بے دلی کی آئینہ دار قربانی اب ہم مسیح کو صلیب دیئے جانے کے واقعہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔خو داس واقعہ کی تفصیلات پر غور کرتے ہوئے بھی ہم ایک عقد و لا یخل سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہتے۔جیسا کہ ہمیں بالاصرار بتایا جاتا ہے یہ مسیح ہی تھا جس نے خود اپنی مرضی سے اپنے آپ کو قربانی کے لئے ”باپ خدا کے حضور پیش کیا۔اور یہ کہ اس لئے اسے پوری نوع انسانی کے گناہوں کے کفارہ کے طور پر قربانی کا بکرا بنایا گیا البتہ اس کفارہ سے فیض پانے کے لئے یہ شرط عائد کی گئی کہ لوگ اسے برحق تسلیم کرتے ہوئے اس پر ایمان لائیں۔لیکن حقیقت الا مر کے طور پر ایک بالکل مختلف منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے۔ہم دیکھتے یہ ہیں کہ جب مسیح کی خواہش کے پورا ہونے کا وقت قریب آتا ہے اور بالآخر گناہوں میں ملوث بنی نوع انسان کو نئے دن کے چڑھنے والے سورج کی طرح امید کی کرن پھوٹتی محسوس ہوتی ہے تو تاریخ انسانی کے اس اہم موقع پر جب ہم اس توقع کے ساتھ مسیح کی طرف نظر اٹھاتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی خاطر قربانی پیش کرنے میں اس کی خوشی و مسرت، روحانی کیف و سرور اور اس کے عالم وارفتگی کا نظارہ کریں تو ہمیں بے حد مایوسی کے عالم میں فریب خوردگی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔بے صبری اور بے چینی سے اس لمحہ مسرت کا انتظار کرنے والے مسیح کی بجائے ہمارا واسطہ پڑتا ہے ایک رونے ، چلانے اور دہائی دینے والے مسیح سے جو اپنے ”باپ خدا سے بصد منت یہ التجا کر رہا ہے کہ اے باپ ! موت کے اس کڑوے پیالہ کو مجھ سے ٹال دے۔بلکہ انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ واقعۂ صلیب سے قبل مسیح نے ایک فیصلہ کن اور دور رس نتائج کا حامل طویل دن گزارا اور اس کے بعد آنے والی ایک سیاہ اور اذیت ناک رات جو در دناک انجام پر منتج ہونے والی تھی دعائیں کرتے ہوئے گزاری۔ایسے کڑے دن کے بعد آنے والی کڑی رات کی بے چین گھڑیوں میں جب مسیح نے اپنے ایک شاگرد کو اونگھتے ہوئے پایا تو اسے بہت ڈانٹا اور برا بھلا کہا۔اس سارے واقعہ کو بائبل نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: