مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 43
43 گناہ اور کفارہ ناگزیر آلودگی سے اس کا بچنا ممکن ہی نہ تھا اور اگر اس نے اپنی ماں سے کوئی تو راثی عنصر انتقال ورثہ کے مخصوص خلیوں کے ساتھ ورثہ میں پیدائشی طور پر نہیں پایا تھا تو پھر اس کی پیدائش یقیناً ایک معجزانہ پیدائش قرار پائے گی کیونکہ ایک معجزہ ہی ایسے بچہ کو معرض وجود میں لا سکتا تھا جو ماں کے بطن سے پیدا ہونے کے باوجود نہ باپ کی طرف منسوب ہو سکتا تھا اور نہ ماں کی طرف۔یہ بات پھر بھی فہم سے بالا ہوتے ہوئے مخمصہ کا موجب رہتی ہے کہ موروثی خواص کے حامل خیلیے جو نسل در نسل منتقل ہوتے ہوئے حوا کی طرف سے مسیح کو ورثہ میں ملے وہ گناہ کے ناگزیر باطنی میلان سے کیسے مبرا ر ہے ؟ چلیے فرضی طور پر ہم مان لیتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ایسا وقوع میں آہی گیا اور مسیح اس معصومیت کا حامل بن گیا جس کی بنا پر اس میں ان انسانوں کے گناہوں کا بار اٹھانے کی اہلیت پید اہو گئی جو اس کی اس معجزانہ حیثیت پر ایمان لے آئیں اور جو ایمان نہ لائیں ان کے گناہوں کا بار خود انہی کی گردن پر رہے۔اس مفروضہ پر ایک اور مسئلہ اٹھ کھڑ اہو گا۔پوچھنے والے پوچھ سکتے ہیں کہ ایسی صورت میں آدم اور حوا کی ان نسلوں پر کیا بیٹے گی جو بے چاری ظہور عیسائیت سے پہلے ہو گزری تھی۔ظہور عیسائیت سے قبل نسلاً بعد نسل کھرب ہا کھرب انسان پیدا ہوتے اور کرہ ارض کے پانچوں براعظموں میں پھیلتے اور ان کے مختلف حصوں میں آباد ہوتے چلے گئے۔وہ پیدا ہونے اور اس زمین پر زندہ رہنے کے بعد مرتے اور اس جہان سے گزرتے چلے گئے۔ان کے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ کسی طور پر سن یا جان سکتے کہ ان کا اصل نجات دہندہ مسیح ہے کیونکہ وہ نجات دہندہ تو ان کے وقت میں پیدا ہی نہ ہوا تھا۔اس طرح تو آدم کی پیدائش سے لے کر ظہورِ مسیح تک کے درمیانی زمانہ میں جتنی بھی نسل آدم پیدا ہوئی وہ محروم ازلی ہی قرار پائی اور خسر انِ مبین میں مبتلا ہونا ان کا مقدر ٹھہر۔ان بے چاروں کا کیا قصور تھا کہ انہیں بخشش یا نجات کا خفیف سے خفیف موقع عطا ہونے کا حق دار نہ سمجھا گیا؟ کیا صحیح کی عطا کردہ نجات از منہ گزشتہ سے نافذ العمل قرار پائے گی ؟ اگر یہ درست ہے تو ایسا کیوں اور کیسے ہو گا؟ پھر سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ خود مسیح کے اپنے زمانہ میں یہودیہ (Judea) کے چھوٹے سے علاقہ کے بالمقابل دنیا کے دیگر وسیع و عریض علاقوں میں بھی نسل آدم آباد تھی۔ان لوگوں نے عیسائیت اور مسیح کا نام بھی نہ سنا تھا، ان سب پر کیا بیتی اور ان کا کیا بنا؟ وہ مسیح کے ابن اللہ ہونے پر ایمان نہ لائے تھے۔عدم علم کی بنا پر ان کے لئے ایمان لانا ممکن ہی نہ تھا۔کیا وہ سزا کے بغیر ہی نجات پا جائیں گے۔یا یہ کہ انہیں بھی ان کے گناہوں کی سزا ملے گی اور وہ نجات سے محروم قرار پائیں گے ؟ اگر انہیں سزا دیئے بغیر ہی چھوڑ دیا