مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 92

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 92 لہروں میں ہیجان انگیز تصادم کا بر پا ہونا ناگزیر ہے۔ایسی صورت حال کے لئے تو نفسیاتی امراض کے ایک ماورائی اور مافوق البشر معالج کی ضرورت ہو گی۔کیونکہ یہ صورت حال اغلبا فکر و عمل میں تضاد کی ایک عجیب نوعیت کی روحانی بیماری (Schizophrenia) پر دلالت کرتی ہے۔اس امر کے ذکر کے بعد اب ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے ایک اور منظر نامہ یا صورت احوال کا نقشہ تیار کرتے ہیں۔مسیحیت کا کسی قدر گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مسیحی کلیسیا کے ہاں اور اس کے زیر اثر خود مسیحیوں میں بعض اصطلاحات کے نتائج و عواقب کا خیال کیے بغیر انہیں بعض ایسے واقعہ یا صورت حال پر چسپاں کر دیا جاتا ہے جہاں ان کا فی الحقیقت اطلاق پانا ممکن ہی نہیں ہو تا۔یہی وجہ ہے کہ صلیب اور اس کے بعد کے واقعات سے متعلق مسیحی نظریہ ذہنی الجھاؤ اور غیر منطقی طور پر منطق کی جانے والی اصطلاحات کی دھند میں بری طرح لپٹا ہوا ہے۔ان میں سے ایک اصطلاح ہے revival۔اس کے لغوی معانی ہیں مختل و معطل ہوش نیز حد درجہ مضمحل اور قریب الاختتام زندگی کی وایسی و بحالی۔ایک اور اصطلاح ہے resurrection ( دوبارہ جی اٹھنا) از روئے اصطلاح استعمال ہوتی ہے مر جانے اور اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد حشر نشر کے طور پر دوبارہ زندہ ہونے کے معنوں میں۔ان دونوں اصطلاحوں (یعنی بحالی اور حشر نشر) میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ہم نے سطور بالا میں مسیح کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے عمداً revival (بحالی) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔جیسا کہ ہم نے اب تک دیکھا ہے revival یا بحالی کے معنی ہیں کہ گویا مرنے کے بعد اسی انسانی جسم کے جملہ اعضائے رئیسہ کے مقررہ فرائض و وظائف ( حرکات و سکنات اور اعمال و افعال) کی بحالی۔بر خلاف اس کے resurrection ( حشر نشر ) کی اصطلاح کے بالکل اور معنے ہیں جن کی وجہ سے یہ اصطلاح قدرت کے بالکل ایک الگ مظہر پر دلالت کرتی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ خود عیسائی کلیسیا ان اصطلاحوں کو ان کے معانی باہم ادل بدل کر غلط رنگ میں استعمال کرتا رہا ہے۔سو اس ضمن میں مسیحیوں کے ذہنوں میں الجھاؤ اور ژولیدگی پیدا کرنے کا ذمہ دار کلیسیا خود ہی ہے۔اکثر مسیحی صاحبان مسیح کی نام نہاد صلیبی موت اور اس کے بعد جی اٹھنے کو مسیح کے resurrection (حشر نشر ) سے تعبیر کرتے ہیں اور اس حشر نشر سے مراد وہ یہ لیتے ہیں کہ مسیح اپنی نام نہاد موت کے وقت جس جسم کو خیر باد کہہ کر چھوڑ گیا تھا اسی جسم میں زندگی دوبارہ عود کر آئی تھی۔ہم یقینا اس سے اتفاق نہیں کرتے اور نہ حشر نشر کی اصطلاح ان معنوں کی متحمل ہے۔اس وقت کی معروضی صورت