مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 91

91 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ انسانی ذہن کو بنایا گیا ہے۔خیالات کے تسلسل کو قائم رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے ذہن انسانی کو ایک آلہ کار کے طور پر دماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح مادی جسم کی حرکات و سکنات اور افعال و اعمال کا تعلق بھی ذہن سے ہی ہوتا ہے۔اگر ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں کہ ذہن کی بھی ایک علیحدہ ہستی ہے اور وہ اپنی ہستی کو از خود بر قرار رکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ذہن اور روح دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ہم اسے کسی نام سے بھی پکاریں اسے ذہن کہیں یا روح جب اس کا دماغ سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے تو اس میں اپنی ہستی کو علیحدہ طور پر بر قرار رکھنے کی اہلیت موجود ہوتی ہے۔لیکن اگر ذہن یا روح سے یہ کام لینا مقصود ہو کہ وہ انسانی جسم کو کنٹرول کرے یا یہ کہ اس کے گردو پیش کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا اثر قبول کرے تو پھر ذہن اور دماغ کے درمیان یا بالفاظ دیگر روح اور دماغ کے درمیان گہرے رابطہ اور تعلق کا ہونا ضروری ہے۔اس تعلق اور رابطہ کے بغیر ذہن یاروح انسانی جسم پر نہ اثر انداز ہو سکتے ہیں اور نہ اسے متحرک کر سکتے ہیں۔اور اسی طرح نہ ہی جسمانی، فکری اور جذباتی تحریکات اور ان کے طریق کار اور ان کے پورے سلسلہ کو کنٹرول کرنا ان کے لئے ممکن رہتا ہے۔یہ ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ بحث و تمحیص سے بالا ہے۔تسلسل کا اب یہ بدیہی امر ہمیں ایک اور سنجیدہ مسئلہ سے دوچار کرنے کا موجب بن جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا خدا کا نام نہاد بیٹا کسی انسانی جسم کو دماغ کے ذریعہ کنٹرول کرنے کا محتاج تھا؟ اور کیا خود اسے اپنے ذہن اور فکری نظام کو چلانے اور اس میں تسلسل برقرار رکھنے کے لئے ایک مادی دماغ کے سہارے اور مدد کی ضرورت تھی اور اس کے واسطے ایک مادی دماغ پر انحصار ناگزیر تھا ؟ اگر وہ خدا کا بیٹا ہونے کی حیثیت میں ہر قسم کی جسمانی حدود و قیود سے بالا ہے اور اگر وہ اپنے ایک آزاد فکری نظام اور حسب منشا اس میں تسلسل کا مالک و مختار ہے اور اس کی اپنی پیدا کردہ کائنات میں ایسے آزاد فکری نظام اور حسب منشا اس میں مالک و مختار ہے اور اس کی اپنی پیدا کردہ کائنات میں ایسے آزاد و خود مختار فکری نظام کی کوئی اور مثال موجود نہیں ہے تو پھر خدا کی روح کا ایک مادی ذہن کے ساتھ انسانی جسم میں لوٹنا ایک انوکھی قسم کی دہری شخصیت اور اس کی وجہ سے رونما ہونے والی عجیب و غریب صورت حال کو جنم دینے کے مترادف ہے اور پھر وہ دہری شخصیت ہے بھی وہ باہم متصادم فکری طریقہ ہائے کار کی مالک کیونکہ انسانی ذہن اور انسانی روح کے لئے خدا کی ذات اور اس کے ذہن کے ساتھ مکمل طور پر یکساں اور یک جان ہو نا ممکن ہی نہیں ہے۔ایسی صورت میں دو فکری طریقہ ہائے کار اور ان کے جدا گانہ تسلسل میں اختلاف رونما ہونا اور ہر دو کی دماغی