مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 93

93 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ حال کے پیش نظر ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ مسیح کی اس وقت کی حالت کو سکتہ کی حالت قرار دیں نہ کہ اسے موت سے تعبیر کریں۔اگر صحیح معنوں کو ذہن میں مستحضر رکھ کر اس اصطلاح کو استعمال کیا جائے تو مسیح کے resurrection ( دوبارہ جی اٹھنے) کے معنے ہر گز یہ نہیں ہو سکتے کہ اس کی روح اسی انسانی جسم میں واپس لوٹ آئی جسے وہ موت کے وقت چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو گئی تھی۔Resurrection(حشر نشر ) کی اصطلاح مرنے کے بعد جس نئی زندگی کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے اس سے مراد صرف ایک نئے آسمانی جسم کی تخلیق کے ہیں۔ایسا جسم اپنی فطرت کے لحاظ سے روحانی جسم ہوتا ہے جو اس مصفا اور لطیف روح کے لئے جو اس کے اندر ہوتی ہے ایک کٹھالی نما خول کا کام دیتا ہے۔یہ جسم مرنے کے بعد دائگی زندگی کے تسلسل کو بر قرار رکھنے کے لیے پیدا کیا جاتا ہے۔بعض اسے قائم مقام ضمنی جسم کہتے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ آسمانی جسم ہوتا ہے اور بعض اس کے لئے آتما کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔نام اس کا آپ کچھ ہی رکھ لیں بنیادی معنی اس کے ایک ہی رہتے ہیں۔پس resurrection جسے اُردو میں حشر نشر کہتے ہیں کی اصطلاح اس نئے جسم کے لئے استعمال ہوتی ہے جسے روح کے لئے پیدا کیا جاتا ہے اور جو اپنی فطرت اور نوعیت کے لحاظ سے بہت لطیف ہوتا ہے۔اور یہ اصطلاح یعنی resurrection کی اصطلاح روح کی اسی تحلیل و تبدیل شدہ جسم میں دوبارہ واپس لوٹ آنے کے معنوں میں ہر گز ہر گز ( اور ہم ہر گز کا لفظ باصر ار استعمال کر رہے ہیں ) استعمال نہیں ہوتی۔سینٹ پال (پولوس) نے مسیح کے جی اٹھنے کے تعلق میں بالکل انہی اصطلاحوں کو ان معنوں میں (جن کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں ) بڑی تفصیل سے استعمال کیا ہے۔وہ نہ صرف مسیح کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا تھا بلکہ بالعموم ان سب مر جانے والے لوگوں کے جی اٹھنے پر بھی ایمان رکھتا تھا جن کو خدا اس کا اہل سمجھتا تھا کہ انہیں بھی ایک نئی ہستی اور نئی زندگی عطا کی جائے۔روح کی ہستی وہی رہتی ہے لیکن وہ وجود جس میں وہ بسیرا کرتی ہے بدل جاتا ہے۔پولوس کے نزدیک ایسا ہونا مظاہر قدرت میں سے ایک عام مظہر کی حیثیت رکھتا ہے۔بصورت دیگر اگر یہ عام نہ ہو تو عیسائیت بلکہ ہر مذہب کا تصور بے معین ہو کر رہ جاتا ہے۔گر نتھیوں کے نام سینٹ پال (پولوس) کے خطوط کا بہت عمیق نظر سے مطالعہ کرناضروری ہے کیونکہ زیر غور مسئلہ کے تعلق میں ان خطوط کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔کم از کم میرے نزدیک تو اس امر میں شبہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ جب پولوس نے صلیب دیئے جانے کے بعد مسیح کے زندہ نظر آنے کا ذکر کیا ہے اس نے کسی ابہام کے بغیر واضح طور پر صرف اور صرف resurrection(حشر نشر کے طور پر