چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 50
۵۰ جائز نہیں کہ خدائی کلام کسی صاحب کشف و الہام کے تابع فرمان ہو اور نہ یہ ضروری ہے کہ اُن کے ذاتی خیال، قیاس اور اجتہاد کے مطابق وقوع میں آئے۔بعینہ یہی صورت اہل اللہ کے اُن کشوف والہامات میں نظر آتی ہے جن میں مہدی موعود کے زمانہ یا علامات کا تذکرہ ہے کیونکہ اگر نظر غائر دیکھا جائے تو ہم باآسانی اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ان سب کا اصل منبع یقینی طور پر خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس نے اپنی حکمت کا ملہ سے مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے ظہور مہدی کی تفصیلات کا مشاہدہ کرایا۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مندرجہ بالا واقعہ سے یہ عقدہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ مختلف بزرگوں کو آمد صدی سے تعلق جو بظا ہر مختلف سنہ بتائے گئے اُن میں حقیقہ کوئی تضاد نہیں کیونکہ اُن میں حضرت مہدی موعود کے ان میں حقیقت تضاد نہیں ویران میں حضرت مہدی موعودا کے حالات زندگی کے مختلف پہلو بیان کئے گئے ہیں۔اس انقلاب آفرین نظریہ سے بزرگان اسلام کے تیرہ سوسالہ لڑی پر کی حقانیت روز روشن کی طرح نمایاں ہو جاتی ہے اور اس کو نظر انداز کر دینے کے نتیجہ میں اسلام کی پوری عمارت متزلزل ہو جاتی ہے اور گزشتہ تمام صلحائے امت کی تکذیب لازم آتی ہے اور اُن کو غلط کا ریا قریب خوردہ ماننا پڑتا ہے اور اُن کی عبائے تقدس داغدار ہو جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا نا پاک خیال اسلام کا کوئی پوشیدہ اور ٹھیا ہوا دشمن میں رکھ سکتا ہے۔والعیاذ باللہ۔