چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 49
۴۹ کو ظاہر پر محمول کیا اوراللہ تعالیٰ سے اس کی تعظیم نہ چاہی۔اب جو واقعہ ہوا وہ یہ تھا کہ شاہی فوج کا ایک ستر گشت لگاتا ہوا قلعہ ہے با ہر نکلا تاکہ دشمن کی پوزیشن معلوم کرے۔اس دستہ کے لوگوں کو کچھ سوار یمن کے آتے دکھائی دیئے جو تعداد میں آٹھ یا دس تھے۔اس دستہ کے سپاہیوں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی۔ان دونوں دستوں کا مقابلہ ہوا یجب مرہٹوں کے تین چار آدمی مارے گئے تو ان میں سے جو باقی بچے وہ بھاگ گئے۔اتفاق کی بات ہے کہ اُن مارے جانے والوں میں مرہٹہ فوج کا کمانڈر انچیف بھی تھا جب مرہٹہ فوج نے دیکھا کہ ہمارا کمانڈر کھیت مارا گیا ہے تو وہ بھاگ کھڑی ہوئی۔گویا شاہ ولی اللہ صاحب نے نہ صرف دعا کی بلکہ خدا تعالیٰ سے باہر والوں کی فتح کی تقسیم بھی معلوم کرلی کہ اس سے مراد شاہی فوجیں ہیں یعنی جب شاہی فوجیں قلعہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں گی تو اُن کی مستح ہوگی (روز نامه الفضل گلاہور- ۵ فروری ۱۹۳۸ ءمت)۔قابل صد احترام بزرگو! اس واقعہ سے یہ بات بالبداہت کایاں ہو جاتی ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے مل جاتے ہیں، دریا خشک ہو سکتے ہیں موسم بدل جاتے ہیں مگر خدا کا کلام نہیں بدلتا جب تک پورا نہ ہوئے۔ہاں یہ