چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 51 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 51

۵۱ پیش گوئیوں کے اس بنیادی اُصول کی طرف اشارہ کرنے کے بعد رہے پہلے میں زمانہ ظہور مندی کی نسبت اہل اللہ کی بعض پیش گوئیاں بتلاتا ہوں اور پھر اُن کی بیان فرمودہ علامات مهدی پر پوری مشرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالوں گا وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ا حضرت ابو قبیل ها نی بن ناصر المصرفی مسلم طور پر نهایت رشقه تابعی اور علو الملاحم و الفتن کے ماہر تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عمرو بن العاص فاتح مصر کی کئی روایات انہی کے واسطہر سے امت تک پہنچی ہیں۔یہ ہجری میں انتقال کیا۔آپ کا مشہور قول ہے :- اجْتِمَاعُ النَّاسِ عَلَى الْمَهْدِي سَنَةَ أَرْبَعٍ وَمَا تَيْنِ ج الکرامه از نواب صدیق حرفان ۳۹ مطبوعہ بھوپال ۱۲۵) فرمایا سب لوگوں کا اجماع ہے کہ تیرھویں صدی کے چوتھے سال مہدی کا ظہور ہوگا۔یہی معنے پچھلی صدی تک علمائے حق کرتے چلے آرہے ہیں۔چنا نچہ عالم اہلحدیث مولانا نواب صدیق حسن خان نے حج الکرامہ مطبوعہ ۱۲۹۱ھ میں اور مولانا ابوالخیر نورالحسن نے ۱۳۰۱ھ کی تصنیف اقتراب الساعة میں یہی معنے مراد لئے ہیں۔حضرت ابو قبیل کی یہ روایت حضرت نعیم بن عماد (مستوفی ۱۲۲۸) جیسے مشہور محدث نے لکھی ہے جو حفظ و ضبط میں ممتاز اور حضرت علامہ